Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا سعودی عرب میں دوبارہ کرفیو کا امکان ہے؟

کورونا کیسز میں آئندہ ہفتوں کے دوران اضافے کا امکان ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سعودی محکمہ صحت عامہ ’وقایہ‘ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آئندہ ہفتوں کو دوران مملکت میں کورونا وائرس کے نئے کیسز بڑھ سکتے ہیں۔ خطرناک کیسز میں اضافے کی صورت میں دوبارہ کرفیو اور لاک ڈاؤن کا بھی امکان ہوسکتا ہے۔   
’الاخباریہ‘ چینل کے پروگرام ’120‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وقایہ کے معاون ایگزیکٹیو چیئرمین ڈاکٹر محمد عماد المحمدی نے کہا ہے کہ کورونا کے کیسز کو دیکھتے ہوئے اس امر کا اندیشہ ہے کہ آئندہ ہفتوں میں متاثرین کی تعداد مزید بڑھے گی۔  

اس وقت مملکت میں کورونا کے خطرناک کیسز کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

المحمدی نے توجہ دلائی کہ مملکت میں لاک ڈاؤن اور کرفیو اور حفاظتی تدابیر میں نرمی یا سختی کا فیصلہ ہسپتالوں پرہونے والے دباؤ اور انتہائی نگہداشت کے شعبے میں کورونا وائرس کے نازک مریضوں کی تعداد کو دیکھ کرکیا جائے گا۔
المحمدی نے مزید کہا کہ اس وقت مملکت میں کورونا وائرس کے خطرناک مریضوں کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے کہ باعث تشویش ہو۔  
المحمدی نے تاکید کی کہ لوگوں کو چاہیے وہ وائرس سے بچاؤ کے لیے مقرر تدابیر کی بھرپور طریقے سے پابندی کریں۔ وائرس سے بچاؤ کے لیے وزارت صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ضوابط پرسحتی سے عمل کیا جائے جن میں سماجی فاصلہ، ماسک پہننا اور ہاتھوں کی مسلسل صفائی  کا عمل شامل ہے۔
ماسک کے استعمال کے حوالے سے المحمدی کا کہنا تھا کہ وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک انتہائی معاون ہوتا ہے اس کے استعمال میں کوتاہی نہ برتی جائے خاص کر بند اور رش والے مقامات پر ماسک کا استعمال ضرور کیا جائے۔  
واضح رہے ’توکلنا‘ ایپ پرموجود کرفیو پاس کے حوالے سے سوال کیا گیا تھا کہ ایپ پریہ سہولت تاحال کیوں رکھی گئی ہے؟ سوال کا جواب دیتے ہوئے توکلنا کی جانب سے کہا گیا تھا کہ کرفیو پاس کی سہولت حالات کو دیکھتے ہوئے رکھی گئی ہے اگر ضرورت ہوئی تو اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

شیئر: