Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اس کھیلنے سے بہتر تھا بائیکاٹ ترا، عامر خاکوانی کا تجزیہ

غیرمتوقع طور پر سلمان آغا نے پہلا اوور کرا کر انڈین کو حیران کر دیا۔ فوٹو: اے ایف پی
اتوار، 15 فروری کے میچ کی بہت زیادہ ہائپ تھی، آئی سی سی نے بڑے جتن سے میچ یقینی بنایا۔ انڈین کرکٹ بورڈ بھی یہ مقابلہ چاہتا تھا، سری لنکن بورڈ بھی سفارش کرتا رہا، آخرکار پاکستان مان گیا۔ میچ کے آخری لمحوں میں ایک دوست نے جلا بھنا میسج کیا، ’لگتا ہے آئی سی سی اور انڈین بورڈ پاکستان کو شکست کی اس ذلت سے دوچار کرنا چاہتے تھے، اسی لیے میچ کھیلنے پر ترغیب/ دھمکی / ترلے کر کے مجبور کیا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم جیسا کھیلی، اس سے تو بہتر تھا بائیکاٹ ہی جاری رہتا۔‘
انڈیا نے پاکستان کوآوٹ کلاس کر دیا، ایک بڑے  مارجن سے  میچ جیت لیا۔ پاکستانی بیٹنگ نے پاور پلے ہیں میں ہتھیار ڈال دئیے تھے۔ اس کے بعد محض فارمیلٹی تھی جو پوری کر لی گئی۔ ایک بہت بری اور نہایت افسوسناک شکست ہوئی۔ پاکستانی ٹیم فائٹ ہی نہ کر پائی۔ یوں لگ رہا تھا ہمارے بلے بازوں کو پچ کی بالکل سمجھ ہی نہیں آ رہی۔ وہ بے تکے شاٹس کھیل کر وکٹیں گنوا رہے ہیں۔ ہمارے آدھے سے زیادہ کھلاڑیوں نے اپنی وکٹ تھرو کی، اس میں بولر کا اتنا کمال نہیں تھا۔
اس گراونڈ میں ایک میچ پہلے ہو چکا تھا اور کرکٹ سے معمولی سا بھی شغف رکھنے والا جانتا تھا کہ باونڈری بڑی ہے اور یہاں پر چھکوں کی کوشش کے بجائے سنگل، ڈبلز بلکہ تین رنز بنانے پر فوکس کرنا پڑے گا۔ پاکستانی ٹیم کی خوش قسمتی کہ انڈین ٹیم ایسا ہی کر چکی تھی۔ ایشان کشن کی دھواں دھار بیٹنگ کے بعد انڈین بلے بازوں نے سمجھداری سے سنگلز، ڈبلز پر فوکس کر کے ہی ٹارگٹ ایک سو پچھتر تک پہنچایا ورنہ وہ بھی کولیپس کر جاتے۔ پاکستانی بلے بازوں نے آج کے  میچ کی پہلی اننگز سے کچھ بھی نہ سیکھا۔ مجھے امید تھی کہ سلمان آغا اور بابر سنگلز، ڈبلز لینے کی کوشش کریں گے، چند اوورز وکٹ پر یہ ٹھہر جاتے تو بعد میں شاٹس بھی کھیلے جا سکتے تھے۔ افسوس ان تجربہ کار بلے بازوں نے بھی مایوس کیا۔
صاحبزادہ فرحان نے تین ڈاٹ گیندیں کھیلنے کے بعد اپنی وکٹ سمپلی تھرو کی۔ صائم ایوب نے اگلے اوور میں بمرا کو ایک چھکا لگا دیا، اس کے بعد اسے سوئنگ یارکر کی توقع کرنی چاہیے تھی کہ یہ بمرا کا ٹریڈ مارک ہے۔ صائم کسی معمولی کلب کرکٹر کے انداز میں ایل بی ڈبلیو ہوا۔ سلمان آغا کپتان تھا، دیکھ چکا تھا کہ دو وکٹیں گر چکی ہیں، پھر بھی اس نے جارحانہ کھیلنے کی ناکام کوشش میں اپنی وکٹ تھرو کر دی۔ بابر اعظم جس گیند پر بولڈ ہوا، اس پر تو افسوس اور دکھ ہی کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کا ایک زمانے میں تکنیکی طور پر سب سے مضبوط اور بڑا بلے باز یوں بچکانہ شاٹ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہوگا؟ اکثر پٹیل کا خاصیت ہی آرم گیند کرانے کی ہے۔ وہی گیند کرائی اور بابر نے جو شاٹ کھیلا، اس میں وہ گیند کے قریب ہی نہیں پھٹک پایا، سرے سے مس کر گیا۔ جب پاور پلے  میں یہ چار ٹاپ بلے باز آوٹ ہو جائیں تو پھر باقی کیا بچنا تھا؟ وہی ہوا۔
عثمان خان نے تھوڑی سی مزاحمت کی، بعض اچھے شاٹس کھیلے، مگر اس کے ساتھ کوئی کھڑا ہی نہیں ہوا۔ نواز نے بھی بے تکا اونچا شاٹ کھیلا اور رخصت ہوا۔ شاداب بھی نہیں چلا، فہیم اشرف نے بھی وہی کیا۔ شاہین شاہ نے آخر میں دو تین ہٹیں لگائیں، بجھتے چراغ کی آخری بھڑک کی طرح۔ میچ ختم ہوگیا۔ ایک یک طرفہ، فائٹ سے عاری میچ۔
پاکستانی باولنگ کی جو پٹائی ایشان کشن نے کی وہ بھی انہیں یاد رہے گی، شاداب کی دھنائی ہوئی، ابرار بھی بری طرح ناکام ہوا۔ شاہین شاہ بری طرح ناکام ہوا۔ شاہین کو یہ میچ باہر بٹھانا چاہیے تھا۔ وہ اپنے سے بہتر باولر اور زیادہ اچھی فارم میں موجود سلمان مرزا کی جگہ پر کھلایا جا رہا ہے، نجانے کیوں ؟کوچ اور کپتان بار بار شاہین کو کیوں کھلارہے ہیں؟

بابر اعظم جس گیند پر بولڈ ہوا، اس پر تو افسوس اور دکھ ہی کیا جا سکتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

صائم ایوب نے اچھی بولنگ کرائی ورنہ ایشان تو شائد ٹارگٹ 250 رنز تک لے جاتا۔ نواز کو ایشان کے بعد لایا گیا، بولنگ اس کی بری نہیں رہی۔ عثمان طارق کو انڈین احتیاط سے کھیلے، مگر عثمان کی بولنگ اچھی رہی، خاص کر جب اس نے ڈیتھ اوورز میں بولنگ کرائی ہو۔
اس میچ کی واحد اچھی اور سمارٹ موو پاکستان کی طرف سے یہ ہوئی کہ غیرمتوقع طور پر سلمان آغا نے پہلا اوور کرا کر انڈین کو حیران کر دیا۔ سلمان آغا نے ابھیشک شرما کی پرائز وکٹ بھی لے لی۔ دو اوورز میں اس نے دس رنز دیے۔ اسے ایک اوور مزید کرانا چاہیے تھا۔ ایشان کی ہارڈ ہٹنگ کا پاکستان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، ان کے پاس پلان بی ہونا چاہیے تھا۔ عثمان طارق کو تھوڑا پہلے لا سکتے تھے۔ فہیم اشرف کو بھی ٹرائی کر سکتے تھے۔ آٹھ اوور میں 81 رنز بن جانا بہرحال پاکستانی بولنگ کی ناکامی تھی۔ تاہم پھر بھی 175 کا ہدف زیادہ نہیں تھا، سمجھداری سے بیٹنگ کرتے تو ایک اچھا فائٹنگ میچ ہو سکتا تھا۔

 

شیئر: