Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا پہلی قومی سلامتی پالیسی سے معاشی سلامتی مضبوط ہوگی؟

ناصر جنجوعہ کے مطابق ’دنیا میں تصور تبدیل ہو رہا ہے اور اب فوج کو نہیں بلکہ عوام کو اصل سرمایہ سمجھا جا رہا ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی وفاقی کابینہ نے منگل کو قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دی جس کے بارے میں حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ ملک کی پہلی قومی سلامتی کی پالیسی ہے۔
منگل کو وزیراعظم عمران خان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے ٹویٹ میں کہا کہ حقیقی معنوں میں یہ تاریخی کامیابی ہے کہ ’عوام پر مبنی قومی سلامتی پالیسی تشکیل دی گئی ہے جس کا اہم اور بنیادی جزو معاشی سلامتی ہے۔‘
بعد ازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں معید یوسف نے پالیسی کے خدوخال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی قومی سلامتی کے تمام پہلوؤں کو دیکھتی ہے۔

’پہلے سکیورٹی فوج اور بارڈر سے مشروط تھی اب عوام سے ہے‘

اردو نیوز نے حکومت کے اس دعوے کو کہ یہ ملک کی پہلی قومی سلامتی ہے، جاننے کے لیے قومی سلامتی کمیٹی کے سابق مشیر لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ’بالکل یہ پہلی قومی سلامتی کی پالیسی ہے اور اس کا بنیادی مسودہ میں نے ہی تیار کیا تھا۔‘
ناصر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ اس پالیسی پر انہوں نے بطور صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور بطور مشیر قومی سلامتی کافی محنت کی تھی۔
ان سے پوچھا گیا کہ یہ پالیسی ’عوام پر مبنی‘ کیسے ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ’دنیا میں تصور تبدیل ہو رہا ہے اور اب فوج کو نہیں بلکہ عوام کو اصل سرمایہ سمجھا جا رہا ہے۔‘
’پہلے سکیورٹی فوج اور بارڈر سے مشروط تھی اب عوام سے ہے۔‘

معید یوسف نے کہا ہے کہ یہ پالیسی قومی سلامتی کے تمام پہلوؤں کو دیکھتی ہے (فائل فوٹو: پاکستان نیوی)

اس سوال پر کہ حکومتی یا ریاستی تبدیلیوں کے بعد یہ پالیسی سرد خانے میں تو نہیں چلی جائے گی؟ سابق مشیر قومی سلامتی نے جواب دیا کہ ’یہاں کا آپ کو بھی پتا ہے لیکن ایک کام ہوتے ہوتے ہو گیا ہے تو سب کو مبارک باد۔‘
کیا یہ پالیسی بلوچستان اور سابق فاٹا کے علاقوں کے عوام کی شکایات کا ازالہ کرسکے گی؟ اس پر سابق مشیر قوی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے کہا کہ ’اس پالیسی کے اطلاق سے ان تمام علاقوں میں سوشل ڈویلپمنٹ ہوگی، سکیورٹی بہتر ہوگی،  ‘صحت کا نظام بہتر ہوگا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے بھی نمٹنے میں مدد ملے گی۔
’معاشی سلامتی‘ کو اس قومی سلامتی پالیسی کا بنیادی جزو قرار دیا جا رہا ہے تاہم اس کے ملکی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس حوالے سے اردو نیوز نے ڈان اخبار سے وابستہ سینیئر صحافی خلیق کیانی سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ’مجھے حیرانی ہے کہ آج 74 برسوں بعد ہمیں پتا چلا ہے کہ معیشت کتنی ضروری ہے، لیکن اگر آج بھی یاد آیا تو یہ خوش آئند ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’شاید حال ہی میں دفاعی بجٹ میں کٹوتیوں کے بعد ہمیں معیشت کی اہمیت کا اندازہ ہوا ہے۔‘
معاشی تجزیہ کار خرم حسین کے مطابق ابھی اس نئی پالیسی کے حوالے سے کچھ پتا نہیں ہے لیکن لگتا یوں ہے کہ ’ملک کی معاشی، خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کو جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے، پر دیکھنا یہ ہوگا کہ ڈرائیونگ سیٹ پر جگہ کس کو ملتی ہے۔‘

رضوان الرحمان رضی کے مطابق ’پاکستان کا بارڈر سکیورٹی کا نظام بھی اچھا نہیں ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

لاہور سے تعلق رکھنے والے معاشی امور کے سینیئر صحافی رضوان الرحمان رضی سمجھتے ہیں کہ معاشی ترقی کے لیے ملکی سرحدوں کے ساتھ ساتھ اندرون ملک امن بھی ضروری ہے۔
’ملک میں جو بھی آپریشن ہوتے ہیں ان کا ملک کی معیشت پر منفی اثر پڑتا ہے۔ سابق فاٹا میں ہونے والے آپریشنز سے وہاں کی مقامی صنعتیں ختم ہو گئیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس نئی پالیسی کے حوالے سے ابھی کچھ سمجھ نہیں آئی لیکن ’پوری دنیا میں معیشت سلامتی کا اور سلامتی معیشت کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔‘
رضوان الرحمان رضی کے مطابق ’پاکستان کا بارڈر سکیورٹی کا نظام بھی اچھا نہیں ہے۔ ہمیں ایشیئن ڈویلپمنٹ بینک سے جو سکینرز ملے ہوئے ہیں وہ ہم نے استعمال نہیں کیے۔‘
’ان سکینرز سے جو ٹرالر بھی گزرتا ہے اس کا سامان سمیت پورا ریکارڈ محفوظ ہوجاتا ہے لیکن ہمارے کچھ ریاستی اداروں کے مفادات کی وجہ سے یہ نصب نہیں ہو سکے۔‘

شیئر: