Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عربی خطاطی کی یونیسکو کی فہرست میں شمولیت پر خصوصی تقریب

58 منزلوں پر منفرد عمارتوں کے وسط میں ایک مسجد بھی قائم ہے۔ (فوٹو عرب نیوز)
یونیسکو کی جانب سے عربی خطاطی کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے کے جشن  کے طور پر  باحہ میں آثار قدیمہ کے گاؤں ذی عین میں 58 منزلوں پر پتھروں کی عمارتوں کو خصوصی لیزر لائٹ کی مدد سے روشن کیا گیا۔
سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی ہیریٹیج کمیشن نے واضح کیا ہے کہ عربی خطاطی کے سلسلے کی یہ تقریبات ہفتہ بھر جاری رہیں گی۔
خوبصورت اورمنفرد قریہ ذی عین میں عربی خطاطی پر مبنی لیزر لائٹ شوز کو فن خطاطی کی قدر اورعرب شناخت کی علامت کے طور پر خاص ورثے کے طور پر اجاگر کیا  گیا ہے۔
یونیسکو کے مطابق انتہائی منفرد اور تاریخی قریہ ذی عین  کو مملکت کے اہم ترین آثار قدیمہ کے گاؤں کی حیثیت حاصل ہے۔
ذی عین کے علاقے میں پہاڑ کی چوٹی پر جاتے ہوئے 58 منزلوں پر منفرد عمارتوں کے وسط میں ایک مسجد بھی قائم ہے۔
اس علاقے میں زراعت کے فروغ کے لیے میٹھے پانی کا چشمہ بھی موجود ہے جو سینکڑوں برس سے اپنی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ذی عین کے باشندوں کو اس بات پر فخر ہے کہ ان کے علاقے میں موجود اس خاص مقام کو یونیسکو کے غیر معمولی ثقافتی ورثے کی فہرست میں عربی خطاطی  کا جشن منانے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

علاقے میں زراعت کے فروغ کے لیے میٹھے پانی کا چشمہ بھی موجود ہے۔ (فوٹو عرب نیوز)

اس خصوصی قریے کے ثقافتی ورثہ اور تاریخی حیثیت کے بارے میں جاننے کے لیے سعودی عرب اور دنیا بھر سے آنے زائرین سعودی عرب کے پرفضا مقام باحہ کے قریب اس  جگہ کا رخ کرتے ہیں۔
یونیسکو کی فہرست میں عربی خطاطی کا اضافہ 15 دیگرعرب ممالک کے تعاون سے مملکت کی کوششوں کے بعد کیا گیا ہے۔
فنکارانہ انداز میں کی جانے والی عربی خطاطی میں اس کی خوبصورتی کا اظہار عربی رسم الخط کو روانی سے لکھنے کی مشق پر منحصر ہے۔
 
 
 

شیئر: