ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان سے مزید مذاکرات کے لیے روس روانہ
اتوار 26 اپریل 2026 22:26
ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل، قدرتی گیس اور کھاد کی بڑی مقدار کی ترسیل رک گئی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی اتوار کو اسلام آباد سے ماسکو روانہ ہو گئے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ ایک دارالحکومت سے دوسرے دارالحکومت کے درمیان مسلسل سفر کرتے رہے جبکہ ثالثین تہران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی پاکستان کا دو روزہ دورہ کرنے کے بعد سنیچر کو عمان چلے گئے تھے جہاں انہوں نے عمانی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کی۔ عمان سے عباس عراقچی واپس اتوار کی شام کو پاکستان آگئے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پاکستان سے اتوار کی رات کو ایرانی وزیر خارجہ ماسکو روانہ ہوگئے۔
امریکہ نے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پاکستان میں اپنے نمائندے نہیں بھیجے تھے، تاہم پاکستان بدستور ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اے پی نے پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ اور ایران کے بالواسطہ بات چیت اب بھی جاری ہے۔
ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مذاکرات کاروں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا تھا۔
تاہم اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ بالواسطہ کوششیں جاری ہیں، اے ایف پی نے ایران کے سرکاری میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران پاکستان کے ذریعے امریکہ کو ’تحریری پیغامات‘بھیجے، جو’ایران کی بعض ریڈ لائنز، بشمول جوہری معاملات اور آبنائے ہرمز‘ سے متعلق ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیغامات کسی باقاعدہ مذاکرات کا حصہ نہیں تھے۔
اگرچہ 8 اپریل کو شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ میں جنگ بندی اب تک برقرار ہے، لیکن اس کے معاشی اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل، قدرتی گیس اور کھاد کی بڑی مقدار کی ترسیل رک گئی ہے، قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور ترقی پذیر دنیا میں وسیع پیمانے پر بھوک کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ہفتے کے روز مذاکرات کے نئے دور کی امید تھی، جب وٹکوف اور کشنر کے اسلام آباد آنے کا امکان تھا، لیکن ٹرمپ نے بعد میں فاکس نیوز کو بتایا کہ انہوں نے یہ دورہ منسوخ کر دیا کیونکہ ’بے مقصد بات چیت کے لیے بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘
اتوار کو صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے کہا، ہم اب یہ نہیں کریں گے۔ ہمارے پاس تمام کارڈز ہیں۔ اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ ہمارے پاس آئیں یا ہمیں کال کریں، آپ جانتے ہیں کہ ٹیلیفون موجود ہے، ہمارے پاس محفوظ لائنیں ہیں۔‘
صدر کو اندرونِ ملک بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، جبکہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات بھی شیڈول ہیں۔
