Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’یوکرین سے پولینڈ پہنچنے والے پاکستانی طلبہ کی اکثریت واپس آنے کو تیار نہیں‘

ترجمان پی آئی اے کے مطابق یوکرین سے پولینڈ آنے والے افراد کی تعداد 95 ہے۔ فائل فوٹو: روئٹرز
یوکرین سے پولینڈ منتقل ہونے والے پاکستانی طلبہ اور سفارتی عملے کے اہل خانہ کو پاکستان لانے کے لیے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا فضائی آپریشن تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔  
اس حوالے سے آج پولینڈ روانہ ہونے والی دو پروازوں کی روانگی موخر کر دی گئی ہے۔  
ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ یوکرین سے پولینڈ پہنچنے والے پاکستانی طلبہ کی اکثریت فوری طور پر پاکستان واپس نہیں آنا چاہتی۔ صرف چند مسافروں کے لیے جہاز روانہ نہیں کیا جا سکتا۔‘ 
اردو نیوز سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’ابھی تک یوکرین سے پولینڈ آنے والے افراد کی تعداد 95 ہے۔ جس میں سے 60 لوگوں نے فوری طور پر سفر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ہمیں دفتر خارجہ نے خود منع کیا ہے کہ ابھی جہاز کی روانگی موخر کر دی جائے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’طلبہ پاکستان کیوں نہیں آنا چاہتے اس حوالے سے دفتر خارجہ ہی بہتر بتا سکتا ہے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’فضائی آپریشن کے حوالے سے کام کیا جا رہا ہے۔ طیاروں کی روانگی کا فیصلہ واپس آنے والے افراد کی تعداد اور ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔‘
یوکرین میں موجود پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے پرواز کراچی، اسلام آباد یا لاہور سمیت کسی بھی ہوائی اڈے سے آپریٹ کی جاسکتی ہے اور اس کے لیے ابتدائی طور پر پی آئی اے نے اتوار کو دو پروازیں پاکستان سے پولینڈ روانہ کرنے کی تیاری کی تھی۔ 
خیال رہے کہ پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے یوکرین سے درجنوں پاکستانی طلبہ کو پولینڈ منتقل ہونے کا کہا تھا۔ طلبہ جب پولینڈ کی سرحد پر پہنچے تو فورسز نے انہیں داخلے سے روک دیا اور بتایا کہ کسی پاکستانی کا نام فہرست میں شامل نہیں ہے۔
روس کی جانب سے یوکرین پر ہونے والے حملے کے بعد چار ہزار سے زائد پاکستانی طالب علم اور شہری یوکرین میں محصور تھے۔ جنہوں نے اپنی بحفاظت وطن واپسی کے لیے حکومت سے درخواست بھی کی تھی۔ 

ترجمان پی آئی اے کے مطابق ’طلبہ پاکستان کیوں نہیں آنا چاہتے یہ دفتر خارجہ ہی بہتر بتا سکتا ہے۔‘ فائل فوٹو: روئٹرز

دوسری جانب یوکرین میں تعینات پاکستان کے سفیر نوئیل اسرائیل کھوکھر نے کہا ہے کہ یوکرین میں پاکستان کے تقریباً تین ہزار طلبہ موجود تھے۔ زیادہ تر طلبہ یوکرین سے پہلے ہی جا چکے ہیں۔ اب صرف چھ یا سات سو طلبہ ابھی یوکرین میں موجود ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ یوکرین سے انخلا کے عمل میں بہت سی مشکلات ہیں۔ یوکرین میں فلائٹس بند ہیں، پمپس پر پٹرول دستیاب نہیں، بینکنگ سسٹم بیٹھ چکا ہے۔ فائرنگ اور میزائل حملے ہو رہے ہیں پھر بھی طلبہ سمیت تمام پاکستانیوں کے انخلا کا عمل جاری ہے۔ بہت جلد تمام پاکستانیوں کو یوکرین سے نکال لیا جائے گا۔  
دفتر خارجہ کے مطابق اب تک 125 پاکستانی افراد کو یوکرین سے نکالا جاچکا ہے جن میں سفارت خانے کے عملے کے 21 اہل خانہ بھی شامل ہیں، 376 پاکستانی یوکرین پولینڈ کی بارڈر کراسنگ پر ہیں اور 30 اب بارڈر کراسنگ کے راستے پر ہیں۔ 
یوکرین میں محصور طلبہ میں سے بیشتر پاکستانی سفارت خانے کی شکایات کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یوکرین سے پولینڈ بارڈر پر پہنچنے والے پاکستانی طلبہ کو بس اتار کر واپس چلی گئی جبکہ ان کے نام بارڈر کراسنگ لسٹ میں شامل ہی نہیں تھے جس وجہ سے انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

شیئر: