امریکی فوج کے سربراہ جنرل رینڈی جارج اپنا عہدہ چھوڑ دیں: وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ
استعفیٰ ایسے وقت میں لیا جا رہا ہے جب امریکہ ایران کے ساتھ جنگ میں مصروف ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے ایک سرکاری عہدیدار نے کہا ہے کہ وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کی جانب سے امریکی فوج کے سربراہ جنرل رینڈی جارج کو عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سی بی ایس کی اس رپورٹ کی تصدیق بھی کی جس میں کہا گیا تھا کہ جنرل رینڈی جارج کو فوری طور پر ریٹائرمنٹ لینے کا کہا گیا ہے۔
اس اقدام کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی تاہم سی بی ایس نے ایک سورس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پیٹ ہیگستھ عہدے کے لیے ایک ایسا شخص چاہتے ہیں جو فوج میں صدر ٹرمپ اور ان کے وژن کے مطابق کام کرے۔
پینٹاگان کے ترجمان سین پارنیل نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’رینڈی جارج عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گے جو فوری طور پر مؤثر ہو گا۔‘
تاہم بیان میں اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
جنرل رینڈی جارج صدر ٹرمپ کے دوسرے دور میں نکالے جانے والے سینیئر فوجی افسر ہوں گے اور یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں مصروف ہے جس کے بارے میں صدر ٹرمپ اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ مزید کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
تقریباً چار عشروں پر محیط فوجی کیریئر کے دوران رینڈی جارج متعدد بار عراق اور افغانستان میں تعینات رہے ہیں جبکہ جو بائیڈن کے دور میں انہوں نے فوج کے نائب سربراہ اور پینٹاگان کے سربراہ لائیڈ آسٹن کے سینیئر فوجی معاون سمیت دیگر عہدوں پر بھی خدمات انجام دیں۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی اعلیٰ فوجی افسران کی چھانٹی کرتے رہے ہیں اور اس سے قبل چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل چارلس سی کیو براؤن کو بھی فروری 2025 میں بغیر کسی وضاحت کے برطرف کر دیا گیا تھا۔
اسی طرح دیگر برطرف کیے گئے سینیئر افسران میں بحریہ اور کوسٹ گارڈ کے سربراہان، نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ، ایئر فورس کے وائس چیف آف سٹاف، نیٹو کے لیے بنائی گئی بحریہ کے ایڈمرل اور تین اعلیٰ فوجی وکیل بھی شامل تھے۔
فضائیہ کے چیف آف سٹاف نے بغیر کسی وضاحت کے ریٹائرمنٹ کا اعلان دو سال قبل کیا جبکہ ان کے دو سال ابھی باقی تھے اسی طرح سدرن کمانڈ کے سربراہ نے بھی ایک سال قبل ریٹائرمنٹ لی تھی۔
پیٹ ہیگستھ کا اصرار ہے کہ صدر ٹرمپ صرف ان عہدیداروں کو چن رہے ہیں جن کے بارے میں وہ ایسا چاہتے ہیں تاہم دوسری جانب ڈیموکریٹ قانون سازوں روایتی طور پر غیرجانبدار رہنے والی فوج میں ممکنہ سیاست کی آمیزش کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔