اسلام آباد سے جرمن سیاح کی چوری ہونے والی سائیکل مل گئی
فلپ سام کے مطابق جمعرات کی رات پولیس نے بلا کر سائیکل واپس لوٹا دی: فوٹو فلپ سام
اسلام آباد پولیس نے فیض آباد کے قریب سے جرمن سیاح کی چوری ہونے والی سائیکل برآمد کر لی ہے۔
جمعرات کی رات اسلام آباد کے علاقے آرچرڈ سکیم سے پولیس نے سائیکل برآمد کر غیر ملکی سیاح کو واپس کر دی۔
سائیکل چرانے کے الزام میں ملوث دو ملزمان کو بھی حراست میں لیا گیا، جن کے خلاف تھانہ کھنہ میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
اردو نیوز کو موصول معلومات کے مطابق دونوں ملزمان بظاہر منشیات کے عادی لگتے ہیں، جن کے بارے میں جرمن سیاح نے بھی سائیکل چوری کرنے کا شُبہ ظاہر کیا تھا۔
سائیکل برآمد ہونے پر پولیس نے جرمن سیاح کو ملزمان کی شناخت بھی کرائی، جنہیں غیر ملکی سیاح نے پہچان لیا۔
اس حوالے سے جرمن شہری فلپ سام نے اردو نیوز کو بتایا کہ انہیں جمعرات کی رات پولیس کی جانب سے بلا کر وہ سائیکل واپس لوٹا دی گئی، جس پر وہ پولیس کے شکر گزار ہیں ساتھ ہی انہوں نے جرمن سفارتخانے کا بھی شکریہ ادا کیا، جس نے سائیکل چوری کے واقعے پر ان کے ساتھ تعاون کیا۔
جرمن سیاح کی سائیکل کیسے چوری ہوئی تھی؟
جرمن سیاح فلپ سام پانچ مارچ کو خنجراب پاس سے گلگت بلتستان پہنچے جہاں سے اُنہوں نے سائیکل کے ذریعے پاکستان کی سیاحت کا آغاز کیا تھا۔
وہ گلگت بلتستان کی حسین وادیوں سے گزرتے خیبر پختونخوا کے راستےاسلام آباد پہنچے لیکن یہاں اُن کے ساتھ ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔
انہوں نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب اسلام آباد کے تھانہ کھنہ کی حدود میں فیض آباد کے قریب ایک سبزہ زار میں اپنا کیمپ لگایا اور اپنی سائیکل باہر کھڑی کی۔
تاہم صبح جب وہ اٹھے تو ان کی وہ سائیکل جس پر انہوں نے پاکستان سمیت کئی ممالک کا سفر کیا غائب تھی۔
یوں جرمن سیاح فلپ سام کی سائیکل اسلام آباد کے تھانہ کھنہ کی حدود سے چوری ہوئی تھی۔
اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ فلپ سام کی سائیکل جلد تلاش کر کے انہیں واپس کر دی جائے گی۔
تھانہ کھنہ کے ایک متعلقہ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ جرمن سیاح نے نالے کے کنارے ویران جگہ پر کیمپ لگایا اور اپنی سائیکل کھڑی کی تھی۔
’یہاں رات کے وقت منشیات کے عادی افراد آتے جاتے رہتے ہیں، اس لیے ہمیں شبہ ہے کہ وہی یہ سائیکل لے کر گئے ہیں۔ ہم اسے جلد تلاش کر لیں گے۔‘
جرمن سیاح کا کیا کہنا تھا؟
اس سے قبل جرمن سیاح فلپ سام کا اردو نیوز سے گفتگو میں کہنا تھا کہ وہ پانچ مارچ کو چین سے خنجراب پاس کے راستے گلگت بلتستان پہنچے تھے اور وہاں سے سائیکل پر پاکستان کی سیاحت کا آغاز کیا تھا۔
فلپ سام کے مطابق، ان کا منصوبہ تھا کہ وہ اسلام آباد آئیں، پھر لاہور کا سفر کریں اور اس کے بعد جرمنی واپس جائیں۔
جب وہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب، یعنی یکم اپریل کو، فیض آباد کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک سبزہ زار پر اپنا کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا تھا
رات ایک سے دو بجے کے درمیان جب انہوں نے اپنا خیمہ لگایا تو دو بظاہر بے گھر افراد ان کے قریب آئے۔ ’اُن افراد کی ساخت دبلی پتلی تھی اور وہ کیمپ لگانے کے دوران بھی متعدد بار مداخلت کرتے رہے۔‘
فلپ سام کے مطابق جب وہ صبح اٹھے تو ان کی سائیکل غائب تھی اور انہیں شبہ تھا کہ یہی افراد اسے لے کر گئے ہیں۔
بعد ازاں، انہوں نے اپنی چوری شدہ سائیکل کی تلاش کے لیے پولیس سے مدد طلب کی تھی۔