Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

 بنوں میں پولیس سٹیشن کے باہر خودکش حملہ، کم از کم پانچ افراد ہلاک

پاکستان کے مطابق شدت پسندوں کی افعانستان میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں: فائل فوٹو اے ایف پی
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ایک پولیس سٹیشن کے باہر دھماکے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے ہیں۔ 
پولیس حکام کے مطابق جمعے کو خودکش بمبار نے ضلع بنوں کے تھانہ ڈومیل کے باہر خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا جس سے قریبی مکانوں اور دکانوں کو کافی نقصان پہنچا۔ 
مقامی پولیس کے اہلکار محمد ساجد خان نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’بظاہر خودکش بمبار کا ٹارگٹ پولیس سٹیشن تھا تاہم وہاں پہنچنے سے پہلے اس نے جلدی میں ایک قریبی مکان کو نشانہ بنا دیا۔‘
مزید پڑھیں
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں خودکش حملے میں بچوں سمیت پانچ افراد کی جان جانے پر افسوس کا اظہار کیا اور تھانہ ڈومیل میں ’خوارجیوں کا خودکش حملہ ناکام بنانے‘ پر پولیس کی تعریف کی۔
خیال رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے میں صوبہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان حملوں میں ملوث شدت پسندوں کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ 
اس وجہ سے ہی اس کے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں اور حالیہ کچھ عرصے میں دونوں کے درمیان متعدد بار سرحدی جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔ 
پاکستان حکام کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کے مسلسل واقعات کے بعد 26 فروری کی شب سے ’آپریشن غضب للحق‘ کا آغاز کیا گیا تھا۔
پاکستان نے اس آپریشن کے دوران  افغانستان پر متعدد فضائی حملہ کیے اور دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں طالبان حکومت کی ان عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔
18 مارچ کو پاکستان نے افغانستان میں ’دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے کے خلاف جاری‘ کے خلاف جاری ’آپریشن غضب للحق‘ کو عارضی طور روکنے کا اعلان کیا تھا۔ 
رواں ہفتے ہی چین کی ثالثی میں پاکستان اور افغان طالبان نے دوبارہ بات چیت شروع کی ہے۔
 
 
 
 
 

شیئر: