ٹول پلازہ فیس میں اضافے کا نوٹیفکیشن دو دن بعد واپس، ’عوام پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے‘
ٹول پلازہ فیس میں اضافے کا نوٹیفکیشن دو دن بعد واپس، ’عوام پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے‘
جمعہ 3 اپریل 2026 10:10
جمعے کی صبح نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا (فوٹو: اے ایف پی)
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ٹول پلازہ فیس میں ہونے والا سہ ماہی اضافہ روک دیا گیا ہے اور دو دن بعد این ایچ اے کو نوٹیفکیشن واپس لینے کا حکم دیا گیا ہے۔
جمعے کو وزارت مواصلات کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ موجودہ صورت حال میں شہریوں پرمزید بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔
بیان کے مطابق ’پانچ اپریل سے ہونے والے اضافے کو معطل کیا جاتا ہے اور نیا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔‘
اس سے دو روز قبل ایک نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا جس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے موٹر ویز اور قومی شاہراہوں پر ٹول ٹیکس میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس میں بتایا گیا تھا کہ اسلام آباد سے پشاور جانے والی ایم ون موٹروے پر کار کا ٹول 700 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح لاہور سے عبدالحکیم تک ایم تھری موٹروے پر کاروں کے لیے ٹول فیس 800 روپے سے بڑھا کر 1000 روپے کر دی گئی ہے، جس سے اس روٹ پر سفر مزید مہنگا ہو جائے گا۔
اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد اور ملتان جانے والی ایم فور موٹروے پر کاروں کا ٹول 1050 روپے سے بڑھا کر 1300 روپے کر دیا گیا ہے جبکہ ملتان سے سکھر تک ایم فائیو موٹروے پر کار کے لیے ٹول ٹیکس 1200 روپے سے بڑھا کر 1500 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح ڈی آئی خان سے ہکلہ تک ایم 14 موٹروے پر بھی کاروں کے ٹول میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 650 روپے سے بڑھا کر 800 روپے کرنے اور حسن ابدال، حویلیاں اور مانسہرہ کے درمیان ای 35 موٹروے پر کاروں کے لیے ٹول ٹیکس 300 روپے سے بڑھا کر 350 روپے کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ نئے نرخوں کا نفاذ پانچ اپریل سے ہو گا (فوٹو:این ایچ اے)
اسی طرح قومی شاہراہوں پر بھی ٹول ٹیکس میں اضافے کا اعلان کیا گیا تھا اور موٹر کار کے لیے نئی فیس 100 روپے مقرر کی گئی تھی۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ نئے ٹول ٹیکس کا نفاذ پانچ اپریل سے ہونا تھا مگر اب اس کو واپس لے لیا گیا ہے۔