Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب سرمایہ کاری کا مرکز ہے، سعودی امریکی بزنس کونسل

اجلاس میں وزارتوں اور سعودی و امریکی کمپنیوں کے نمائندے شریک ہوئے(فوٹو، ایس پی اے)
سعودی امریکی بزنس فورم کا اجلاس جمعرات کو دارالحکومت ریاض میں منعقد ہوا۔ سعودی ایوانہائے صنعت و تجارت کونسل  نے مملکت میں امریکی سفارتخانے کی شراکت سے ہوا۔
اس میں 14 وزارتوں و سرکاری اداروں اور سعودی و امریکی کمپنیوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ 
ایس پی اے کے مطابق سعودی ایوانہائے صنعت و تجارت کونسل کے قائم مقام سیکریٹری جنرل حسین العبد القادر نے سعودی وژن  2030 کے تناظر میں قومی معیشت کو درپیش تبدیلیوں اور سعودی پرائیویٹ سیکٹر کے کردار کا جائزہ لیا۔ 
العبد القادر نے کہا کہ  پرائیویٹ سیکٹر قیادت کی امنگوں کی تکمیل میں اہم حصہ دار بن گیا ہے۔ مجموعی قومی پیداوار میں پرائیویٹ سیکٹر کا حصہ پہلے چالیس فیصد تھا جو بڑھ کر  65 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ 
العبد القادر نے کہا کہ مملکت اب امکانات کی سرزمین اور دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کامرکز بن گئی ہے۔ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان سٹراٹیجک شراکت کے ذریعے مملکت کی حیثیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آرزو ہے کہ امریکی سرمایہ  کار مملکت میں زیادہ بڑا کردارادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں امریکی کمپنیوں کے لیے زبردست امکانات ہیں۔ توانائی، تجدد پذیر توانائی، صنعت، زراعت،کانکنی، سیاحت، تفریحات، صحت نگہداشت، ٹرانسپورٹ ، لاجسٹک خدمات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مواصلات اور مالیاتی خدمات ایسے  شعبے ہیں جن میں امریکی سرمایہ کاروں کے  لیے بڑے امکانات ہیں۔ 
ریاض میں امریکی سفارتخانے میں تجارتی امور کے مشیر جیمز جولسن نے کہا  کہ دو سال تک ورچول ملاقاتوں کے بعد پہلی بار امریکی تجارتی مشن مملکت کے دورے پر آیا ہے۔ اس حوالے سے یہ دورہ بے حد اہم ہے۔ یہاں امریکی سرمایہ کاروں کی ملاقاتیں سعودی سرمایہ کاروں سے ہورہی ہیں۔ وہ براہ راست یہاں سرمایہ کاری کے امکانات کی بابت معلومات حاصل کررہے ہیں۔ تجارتی مشن میں شامل امریکی کمپنیاں اہم اقتصادی شعبوں کے حوالے سے بے حد اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  امریکی کمپنیاں سعودی مارکیٹ میں امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ سعودی مارکیٹ خلیج کے علاقے اور مشرق وسطی میں سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ یہ جی  20 میں بھی اپنا ایک وزن رکھتی ہے۔ 
یاد رہے  کہ فورم میں 5 گول میز  مباحثے  ہوئے۔ چار اہم اقتصادی شعبے بحث کا موضوع بنے۔ سعودی و امریکی کمپنیوں اور سرکاری اداروں کے نمائندوں نے  مباحثوں میں حصہ لیا۔ ان کا تعلق امن، دفاع، تجدد پذیر توانائی، صحت نگہداشت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مواصلات سے تھا۔

شیئر: