Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

میٹا کے پاکستانی خواتین کی آن لائن سکیورٹی لیے نئے اقدامات

اس حفاظتی گائیڈ میں فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر دستیاب سیفٹی سے متعلق ٹولز موجود ہیں (فائل فوٹو: ٹوئٹر)
فیس بک ، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی پیرنٹ کمپنی میٹا نے پاکستانی خواتین کی آن لائن سکیورٹی کے لیے دو نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
میٹا کے اعلان کے مطابق ان نئے اقدامات میں خواتین کے لیے آن لائن سیفٹی گائیڈ اور سٹاپ این سی آئی آئی یعنی رضامندی کے بغیر نامناسب تصاویر کے استعمال کو روکنا شامل ہیں۔
یہ حفاظتی ایڈوائزری انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں دستیاب ہے، جس کا مقصد سوشل میڈیا صارفین کے آن لائن رویوں میں  ذمہ داری اور ڈیجیٹل خواندگی میں اضافہ لانا ہے۔
میٹا کے اعلان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں کروڑوں لوگ میٹا کے پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں۔ تاہم یہ ہمیشہ سے بہتر رہتا ہے کہ وہ آن لائن ہراسگی، غیرمطلوب پیغامات، جعل سازی و مجرمانہ سرگرمیوں  سے متعلق مسائل سے باخبر رہیں۔‘
میٹا نے خواتین کے خلاف آن لائن جرائم سے نمٹنے کے لیے پالیسیوں اور سسٹمز کو فعال رکھا ہے، اس سلسلے میں آگہی پروگرامز سے بھی معاونت کی جاتی ہے تاکہ دھوکے بازوں اور جعل سازوں کے خلاف روک تھام میں وہ بااختیار ہوسکیں۔‘
میٹا کے مطابق ’اس حفاظتی گائیڈ میں فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر دستیاب سیفٹی سے متعلق ٹولز موجود ہیں اور اس کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ خواتین کس طرح انٹرنیٹ بحفاظت انداز سے استعمال کرسکتی ہیں اور جعل سازوں سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔‘
’سیفٹی پر توجہ دینے کے ساتھ سٹاپ این سی آئی آئی کو میٹا کے ماہرین کی رہنمائی اور عالمی فلاحی شراکت دار 'یوکے ریوینج پورن ہیلپ لائن 'کے اشتراک سے سرمایہ فراہم کیا جارہا ہے تاکہ بغیر رضامندی والی نامناسب تصاویر بھیجنے کو روکا جائے جسے عام طور پر انتقامی پورن بھی کہا جاتا ہے۔‘

میٹا کے مطابق ’اس حفاظتی گائیڈ میں فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر دستیاب سیفٹی سے متعلق ٹولز موجود ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

میٹا نے مقامی سطح پر سٹاپ این سی آئی آئی کو اردو پورٹل میں منتقل کیا ہے جس کی بدولت صارفین اپنی آن لائن حفاظت اور رازداری سے متعلق تحفظات کے لئے تحقیقات کی شروعات کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔ ایک بار جب تحقیقات کا آغاز ہوجاتا ہے تو پھر میٹا فعال انداز سے نامناسب تصاویر اور ویڈیوز کا پھیلاؤ روکنے کے لئے اسے بلاک کردیتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں اس شخص کی ڈیوائس سے تصاویر ہٹانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ اس کے بجائے محض ہیش ٹیگ یا اعداد پر مشتمل کوڈ پلیٹ فارم کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔
’یہ پورٹل خواتین کی رہنمائی سے متعلق معاونت کے لیے متاثرین، ماہرین، مشاورت فراہم کرنے والوں اور میٹا کے ٹیک پارٹنرز کی معلومات کو بھی یکجا کرتا ہے۔‘
خواتین اور سوشل میڈیا پر آسانی سے نشانہ بننے والے صارفین میٹا کے خصوصی سیفٹی مرکز (Safety@Facebook) استعمال کرسکتے ہیں جو اردو زبان میں بھی دستیاب ہے تاکہ انہیں آن لائن سپیس کے بحفاظت استعمال کے لئے ضروری معلومات اور سیفٹی ٹولز کی رسائی میسر ہو۔

شیئر: