Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’الفاؤ‘ گاؤں قدیم سلطنتوں کا قبرستان 

الفاؤ جزیرہ نمائے عرب کے اہم تاریخی مقامات میں سے ایک ہے۔ (فوٹو: عاجل نیوز)
الفاؤ پہلی ’کندہ‘ سلطنت کا دارالحکومت تھا۔ یہ وسیع و عریض الربع الخالی صحرا کے اطراف واقع تھی۔  
یہ ریاض شہر سے 600 کلو میٹر جنوب مغرب کے فاصلے پر واقع تھی۔ یہاں سے وادی الدواسر گزرتی ہے۔ الفاؤ قریہ وادی الدواسر کمشنری سے  ڈیڑھ سو کلو میٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔  
عاجل ویب سائٹ کے مطابق سکالرز اور ماہرین آثار قدیمہ نے یہاں تین طرح کے قبرستان دریافت کیے ہیں۔ 
قبرستان شہر کے جنوب مغرب میں واقع ہیں۔ ان میں سے ایک قبرستان سیاسی اور سماجی حیثیت کے مالک افراد اور خاندانوں کا ہے۔ یہاں ہر قبر پانچ میٹر گہری، ایک میٹر چوڑی اور چھ میٹر لمبی ہے۔ قبر کا رخ شمال سے جنوب کی جانب ہے۔  
قبرستان کی مشرقی اور مغربی دیواروں میں شگاف بنے ہوئے ہیں۔ جنہیں قبرستان میں اترنے اور چڑھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ چار دروازے ہیں, ان میں سے تین دروازے زیر زمین تہہ خانوں تک پہنچاتے ہیں۔ یہ دائرے کی شکل میں ہیں جہاں تک مغربی دروازے کا تعلق ہے تو وہ ایک کمرے تک پہنچاتا ہے جس کا فرش سفید سیمنٹ سے تیار کردہ ہے۔ کمرے کے آخر میں شمال کی جانب ایک خندق نما جگہ  بنائی گئی ہے جہاں میت کی بعض قیمتی اشیا رکھی ہوتی ہیں۔  

الفاؤ پہلی ’کندہ‘ سلطنت کا دارالحکومت تھا جو ریاض شہر سے 600 کلومیٹر جنوب مغرب کے فاصلے پر واقع تھی۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

دوسرا قبرستان شہر کے عمائدین کا ہے جو مشرقی اور مغربی دو کمروں پر مشتمل ہے۔ درمیان میں ساڑھے تین میٹر گہری اترنے والی جگہ ہے۔ اس کے مشرق اور مغرب میں قبرستان جانے کے لیے شگاف بنے ہوئے ہیں۔  
تیسرا قبرستان عوامی ہے۔ وہ شہر کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ یہ مسلمانوں کے قبرستان سے ملتا جلتا ہے۔  
الفاؤ جزیرہ نمائے عرب کے اہم تاریخی مقامات میں سے ایک ہے۔ اس کا محل و قوع بے حد اہم ہے۔ یہ قدیم زمانے میں تاجروں کا مرکز اور آنے جانے والے قافلوں کا سنگم ہوا کرتا تھا۔ تاجر حضرات معدنیات، غلہ جات اور ملبوسات سے لدے ہوئے  یہاں پہنچتے تھے۔ یہاں سے سلطنت سبا کی شروعات ہوتی تھی۔  

شیئر: