Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان ’نیا میثاق جمہوریت‘ کیسا ہوگا؟

2006 میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے 36 نکاتی میثاق جمہوریت پر لندن میں دستخط کیے تھے (فائل فوٹو)
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان لندن میں ہونے والی ملاقاتوں میں دونوں جماعتوں کے درمیان ایک نئے میثاق جمہوریت پر اتفاق رائے ہوا ہے۔ جس کے تحت دونوں جماعتوں کے درمیان مستقبل قریب میں باضابطہ مذاکرات کے ذریعے ایک معاہدہ طے پا سکتا ہے جسے میثاق جمہوریت کے تجدیدی معاہدے کا نام دیے جانے کا امکان ہے۔  
اس معاہدے کے تحت دونوں جماعتیں سیاسی اصلاحات، قانون سازی، معیشت، خارجہ پالیسی اور مختلف شعبہ جات میں اصلاحات پر مل جل کام کرنے کے عزم کا اظہار کریں گی۔  
خیال رہے کہ 2006 میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے 36  نکاتی میثاق جمہوریت پر لندن میں دستخط کیے تھے، جب ملک میں ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کے دوران نواز شریف اور پیپلز پارٹی کی سابق چیئرپرسن بے نظیر بھٹو جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ 
چارٹر آف ڈیموکریسی یا میثاق جمہوریت میں اس وقت کی مشرف حکومت کی طرف سے متعارف کرائی گئی آئینی ترامیم، سیاسی نظام میں فوج کی حیثیت، نیشنل سکیورٹی کونسل، احتساب اور عام انتخابات کے بارے میں دونوں جماعتوں کے اتفاق رائے سے نکات شامل کیے گئے تھے۔ 
معاہدے میں 1973 کے آئین کو اکتوبر 1999 کی شکل میں بحال کرنے اور پرویز مشرف کی طرف سے کی گئی زیادہ تر ترامیم کو ختم، ملک کے دفاعی بجٹ کو منظوری کے لیے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ 
 دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اس عزم کا اظہار کیا  تھا کہ آئندہ وہ کسی فوجی حکومت میں نہ تو شامل ہوں گی اور نہ ہی حکومت میں آنے اور منتخب حکومت کے خاتمے کے لیے فوج کی حمایت طلب کریں گی۔ 

نواز شریف اور بے نطیر بھٹو نے میثاق جمہوریت پر دستخط پرویز مشرف کے دور صدارت میں کیے تھے (فوٹو: اے ایف پی)

 تین مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہونے پر عائد کی گئی پابندی کی مخالفت کی گئی اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ 
میثاق جمہوریت میں مزید کہا گیا تھا کہ ’اعلٰی عد لیہ کے جج صاحبان کی تقرری کے لیے ایک کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ فاٹا کے قبائلی علاقوں کو وہاں کے عوام کے صلاح مشورے سے صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) میں شامل کیا جائے گا۔‘ 
اسی طرح مقامی انتخابات سیاسی پارٹیوں کی بنیاد پر کرائے جائیں گے۔  
اس کے علاوہ نیشنل سکیورٹی کونسل ختم کرکے کابینہ کی دفاعی کمیٹی بنانے، ’ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن‘ بنانے کارگل جیسے واقعات کی تحقیقات، نیب کے اپنے احتساب جیسے فیصلے بھی کیے گئے تاہم ان پر اب تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ 
اب جب دونوں جماعتیں ایک بار پھر نئے میثاق جمہوریت کی طرف بڑھ رہی ہیں تو سوال اٹھتے ہیں کہ کیا یہ میثاق جمہوریت اصلاحاتی ایجنڈے پر مشتمل ہوگا یا محض سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت کا راستہ روکنے کی منصوبہ بندی ہے۔  
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور مستقبل کی ترجیحات کے تعین کے لیے اس طرح کے معاہدے ملکی مفاد کے لیے ضروری ہوتے ہیں لیکن اس وقت میثاق جمہوریت کی نہین بلکہ میثاق معیشت کی ضرورت زیادہ ہے۔

دفاعی بجٹ کو منظوری کے لیے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کا نکتہ بھی میثاق جمہوریت میں شامل تھا (فوٹو: اے ایف پی)

اس کے علاوہ کوئی بھی میثاق صرف دو جماعتوں کے درمیان نہیں بلکہ کوشش کی جانی چاہیے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کیا جائے یا کم از کم ان جماعتوں کو ضرور آن بورڈ لینا چاہیے جو اس کا حصہ بننا چاہیں۔  
ماضی میں ہونے والے میثاق جمہوریت کے چشم دید گواہ اور سینیئر صحافی سلمان غنی نے اردو نیوز کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ ’ملک کی گھمبیر اور نازک صورت حال میں میثاق جمہوریت سے زیادہ میثاق معیشت کی ضرورت ہے۔یہ ملک معاشی حوالے سے چلنے کے قابل ہو گا، تو قومی اور سیاسی معاملات آگے بڑھ سکیں گے۔
ان کے مطابق ’آج میثاق کی ضرورت دو جماعتوں کے درمیان نہیں ملکی بقا، سلامتی اور معاشی بحالی کے لیے پوری قوم کے درمیان اس کی ضرورت ہے۔‘  
انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات ہیں اور ملکی سیاسی درجہ حرارت بھی اس نہج تک پہنچ چکا ہے کہ سیاسی انتشار بہت زیادہ ہے۔ اس کے باجود سب جماعتوں کو اپنے مفادات سے ایک قدم پیچھے ہٹنے اور ملکی مفاد میں ایک قدم آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ویسے بھی سیاسی جماعتوں میں مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے، ڈیڈلاک بحرانی اور ہیجانی کیفیت کو جنم دیتا ہے۔‘  
سلمان غنی کے مطابق ’اگر دو بڑی جماعتیں قومی ایجنڈے پر آگے بڑھنا چاھتی ہیں تو خوش آئند ہے، تاہم اگر ان کا مقصد اپنے مفادات کی تکمیل ہے تو وہ اس میں بے شک کامیاب ہو جائیں گی لیکن ملکی مفادات کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ گیند اب سیاسی جماعتوں کے کورٹ میں ہے۔ انھیں بھی چاہییے کہ نظریہ ضرورت پر کاربند رہنے کے بجائے ملک کے مستقبل کی فکر کریں۔ سیاسی جماعتوں کے لیے سوچنے اور سمجھنے کا مقام ہے کہ نوشتہ دیوار یہی ہے۔‘  

ماہرین کے مطابق ’نیا میثاق جمہوریت اگر صرف عمران خان کے خلاف ہوا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا‘ (فوٹو: اے ایف پی)

صحافی انصار عباسی نے نئے میثاق جمہوریت کے حوالے سے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’نیا معاہدہ کرنے سے پہلے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی یہ دیکھیں کہ 2006 والے میثاق پر عمل در آمد میں کتنا مخلص رہے۔ بہت سی چیزیں کی گئی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ چیزیں نہیں کی جا سکیں۔ جن کا تعلق بنیادی طور پر عوام سے ہے۔ میرے خیال میں وہ چیزیں جو دونوں جماعتوں کو ٹھیک لگتی تھیں وہ ہو گئیں لیکن عوامی بہتری کی چیزوں کو نظر انداز کیا گیا۔‘  
انھوں نے کہا کہ ’اب نیا چارٹر ہے، جیسے میثاق جمہورت ٹو کہا جا رہا ہے، یہ عمران خان کے خلاف ہوگا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا لیکن اگر آئینی اصلاحات، گورننس، اداروں کی بہتری، معیشت اور اس طرح کے بنیادی مسائل پر تمام جماعتوں کا معاہدہ ہوتا ہے تو وہ معنی رکھے گا۔
’اگر اس میں عمران خان شامل نہیں ہوں گے تو اس کی کیا حیثیت ہوگی؟ حکومتی جماعتوں کو چاہیےکہ چارٹر ضرور کریں لیکن کوشش کرکے اس میں تحریک انصاف کو شامل کریں۔‘ 
دوسری جانب تجزیہ کار رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ ’ماضی میں جب ان جماعتوں نے میثاق جمہوریت کیا تھا اس وقت ماضی میں کیے گئے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے کفارے کے طور پر کہا تھا کہ وہ مستقبل میں ان کو نہیں دہرائیں گے، لیکن اس پر مکمل عمل در آمد نہیں ہوا تھا۔ اب جب اس کی تجدید ہو رہی ہے تو ایک بار پھر وہی دو جماعتیں اس کا حصہ ہیں۔ ان جماعتوں پر اب بھی وہی الزامات ہیں جو ماضی میں لگتے تھے جیسے ہارس ٹریڈنگ اور حکومت کا تختہ الٹنا وغیرہ۔‘ 

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ’اس وقت میثاق جمہوریت سے ملک کو میثاق معیشت کی ضرورت ہے‘ (فوٹو: اے ایف پی)

انھوں نے کہا کہ ’میثاق جمہوریت میں اب بھی اگر دو ہی جماعتیں شامل ہیں تو اسے قومی سطح کا معاہدہ نہیں کہہ سکیں گے۔ ملک کی سب سے بڑی جماعت اس وقت اپوزیشن میں ہے۔ اسے بھی اعتماد میں لینا چاہیے اور ان سے بھی بات کرنی چاہیے اور اگر وہ اس کا حصہ نہیں بنتے تب بھی کم از کم حکومتی اتحاد میں شامل تمام جماعتیں اس معاہدے میں شامل ہوں۔‘  
ان کے مطابق ’آئین کے ہوتے ہوئے کسی نئے میثاق کی ضرورت نہیں ہے۔ موجودہ صورت حال میں بہت سے مقامات پر اصلاحات کی ضرورت پیش آئی ہے۔ گورننس اور عدلیہ سمیت کئی جگہ پر اصلاحات درکار ہیں۔ میثاق جمہوریت کو چھوڑیں، آئین پر توجہ دیں اور اس میں موجود کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔‘  
رسول بخش رئیس کے مطابق ’دیگر جماعتوں بالخصوص تحریک انصاف کی شمولیت کے بغیر کسی بھی قسم کے میثاق کی حیثیت این آر او اور تحریک انصاف کا راستہ روکنے کی منصوبہ بندی کے علاوہ کچھ نہیں ہوگی۔‘  

شیئر: