Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سری لنکا میں پرتشدد احتجاج کے بعد وزیراعظم مستعفی

مہندا راجا پاکشے نے ٹویٹ کے ذریعے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے استعفٰی صدر کو بھجوا دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
سری لنکا میں حکومت کے حامیوں اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے بعد سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجا پاکشے نے استعفٰی دے دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق مستعفی ہونے والے سری لنکن وزیراعظإ مہندا راجا پاکشے کے ترجمان روہن ویلیویتا کا کہنا ہے کہ انھوں نے استعفٰی صدر گوتبایا راجا پاکشے کو بھجوا دیا ہے جو کہ ان کے چھوٹے بھائی بھی ہیں۔
اسی طرح راجا پاکشے نے ایک ٹویٹ کے ذریعے استعفے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے لکھا ’میں نے فوری طور پر اپنا استعفٰی صدر کو بھجوا دیا ہے۔‘
پیر کو حکومت کے حامیوں نے کولمبو میں صدر کے دفتر کے باہر احتجاج کرنے والوں پر لاٹھیوں سے حملہ کیا جس میں درجنوں مظاہرین زخمی ہوئے۔ جس کے بعد فوج کو طلب کر لیا گیا۔
سری لنکا میں امریکہ کے سفیر نے پرامن مظاہرین پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ تشدد پر اکسانے والے افراد کو گرفتار کیا جائے۔
سری لنکا میں کئی ماہ سے معاشی بحران چل رہا ہے اور کھانے پینے کے سامنے کے علاوہ ادویات کی بھی شدید قلت ہے۔ ملک میں جاری صورت حال کو تاریخ کا بدترین بحران قرار دیا جا رہا ہے۔
چند ہفتے قبل حکومت کے خلاف پرامن احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔
پیر کو کولمبو میں مظاہرین اور حکومت کے حامیوں کے درمیان اس وقت بدترین جھڑپیں دیکھنے میں آئیں جب ملک کے صدر راجا پاکشے اور وزیراعظم مہندا راجہ پاکشے کے خاندان والے اس مقام پر پہنچے۔
پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے شیل پھینکے گئے اور فوری طور پر کرفیو نافذ کر دیا جس کا دائرہ کچھ ہی دیر میں دو کروڑ 20 لاکھ کی آبادی رکھنے والے پورے ملک تک پھیلا دیا گیا۔
کولمبو نیشنل ہسپتال کے ترجمان پشپا نے اے ایف پی کو بتایا کہ جھڑپوں میں 78 افراد زخمی ہوئے جن کو ہسپتالوں میں پہنچایا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کی مدد کے لیے فوجی دستے بلا لیے گئے ہیں تاہم جھڑپوں کا سلسلہ نہیں تھم سکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق صدر راجا پاکشے کے سینکڑوں حامیوں نے غیر مسلح مظاہرین پر اس وقت ہلہ بولا جب وہ صدارتی دفتر کے سامنے احتجاج کر رہے تھے۔
تشدد اس وقت دیکھنے میں آیا جب مستعفی ہونے والے وزیراعظم مہندا راجا پاکشے کے مزید حامی بسوں میں وہاں پہنچے۔
راجا پاکشے نے اپنے گھر کے قریب 3000 کے قریب مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ملک کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔
اس موقع پر حکومت کے حامیوں نے مظاہرین کے خیمے اکھاڑ دیے اور حکومت مخالف بینرز کو آگ لگا دی جس پر صورت حال بگڑ گئی۔

 

شیئر: