Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مغرب کو یہ دعویٰ بند کرنا چاہیے کہ روس اور چین گرین لینڈ کے لیے خطرہ ہیں: روس

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے کہا کہ اس خطے کے بحران نے اس بات کو واضح کر دیا کہ مغرب کی طرف سے جسے ’قواعد پر مبنی عالمی نظام‘ کہا جاتا ہے، اس کے نفاذ میں تضاد موجود ہے۔
ترجمان نے مغرب کے گرین لینڈ کے حوالے سے اقدامات پر کہا، ’پہلے انہوں نے یہ خیال پیش کیا کہ کچھ جارح موجود ہیں، اور پھر کہا کہ وہ ان جارحوں سے کسی کو بچانے کے لیے تیار ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال خاص طور پر اس بات کو واضح کرتی ہے کہ مغرب کے ذریعے قائم کیے جانے والے اس ’قواعد پر مبنی عالمی نظام‘ میں تضاد ہے۔
ماریہ زاخارووا نے مزید کہا، ’ہم چین کے اس موقف کے ساتھ یکجہتی رکھتے ہیں کہ روس اور چین کی گرین لینڈ کے ارد گرد کسی سرگرمی کا حوالہ موجودہ کشیدگی کی وجہ کے طور پر دینا ناقابلِ قبول ہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بار بار کہا ہے کہ امریکہ گرین لینڈ پر قبضہ کرے گا، کیونکہ اگر امریکہ ایسا نہیں کرتا تو روس اور چین کریں گے، اور امریکہ انہیں اپنے پڑوسی کے طور پر نہیں چاہتا۔
ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد، یورپی رہنماؤں نے بار بار، بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے، کہا کہ روس اور چین گرین لینڈ پر نظریں لگائے ہوئے ہیں اور اس دلیل کو استعمال کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کو ماسکو اور بیجنگ کے خلاف آرکٹک کی حفاظت کرنی چاہیے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ’نہ روس نے اور نہ چین نے اس طرح کے کوئی منصوبے ظاہر کیے ہیں۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس اور چین کے گرین لینڈ کے لیے خطرہ ہونے کے دعوے کی حمایت میں کوئی حقائق پیش نہیں کیے گئے۔
جب روئٹرز نے براہِ راست پوچھا کہ کیا روس گرین لینڈ پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، تو زاخارووا نے کہا ’ آپ ٹرمپ سے کیوں نہیں پوچھتے؟‘
ماریہ زاخارووا نے مزید کہا، ’ایسے کوئی حقائق موجود نہیں جو روس اور چین کے جارحانہ منصوبوں کی نشاندہی کریں، اور نہ ہی کوئی ہو سکتے ہیں۔‘
چین نے پیر کے روز امریکہ پر زور دیا کہ وہ دیگر ممالک کا بہانہ بنا کر اپنے مفادات کا پیچھا نہ کرے، اور کہا کہ چین کی آرکٹک میں سرگرمیاں خطے میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے ہیں۔

شیئر: