’دا فارسٹ ایمبیسیڈر پروگرام‘ سعودی عرب میں جنگلات کی بحالی کے لیے تربیتی کورسز
اس اقدام سے سعودی گرین انیشیٹو کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈیولپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن ماحولیاتی انیشیٹوز پر عمل درآمد کے لیے ان قومی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے جن سے جدید تکنیکی اور سائنسی مہارتوں کے ذریعے سبزے کے وسائل کا جائزہ اور ان کی بحالی کی جا سکتی ہے۔
’دا فارسٹ ایمبیسیڈر پروگرام‘ خصوصی تریبیت کے اسی طرح کے کئی اقدامات میں سے ایک ہے جو جنگلات کے عملے، متعلقہ حکام اور یونیورسٹی کے طلبہ کو ایسی معلومات اور مہارتوں سے لیس کرتے ہیں۔
ان کی مدد سے سبزے والے مقامات کا تجزیہ اور ان کی فہرستیں تیار کی جا سکتی ہیں اور جنگلات میں بنجر پن کا شکار ہونے والی زمینوں کی بحالی کے لیے تکنیکی منصوبے تیار ہو سکتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس پروگرام میں علمی اور عملی تربیت کے علاوہ پریزینٹیشنز، تعلیمی کورس کے مختلف اجزا، گروپس کی سطح پر بات چیت اور کیس سٹڈیز شامل کیے گئے ہیں۔
تربیتی کورس کے یہ تمام حصے شرکا کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ تجزیے اور نباتاتی فہرستیں تیار کر سکیں، زمین میں ہونے والی خرابی کی نشاندہی کر پائیں، بحالی کی ضروریات طے کریں اور جنگلات کے انتظام کے لیے تکنیکی منصوبے تیار کرنے کے قابل ہو سکیں۔

اس پروگرام میں تریبیت حاصل کرنے والوں کو جدید سائنسی معلومات اور عملی میدان میں کام کے ہنر سکھانے پر خاص توجہ کی گئی ہے۔
یہ پروگرام اعلٰی صلاحیت کے حامل ماہرین کو جنگلات کے بندوبست اور بحالی کے لیے بہترین سائنسی طریقِ کار استعمال کرنے کے قابل بنانے کا ایک ماڈل ہے۔ پروگرام قدرتی وسائل کے تحفظ، سعودی گرین انیشیٹو کو آگے بڑھانے اور مملکت میں سبزے کی طویل مدتی پائیداری کے لیے تعاون کا کام دیتا ہے۔
