Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ اور جنوبی کوریا کا آٹھ میزائل فائر کر کے ’شمالی کوریا کو جواب‘

جنوبی کوریا اور امریکہ کے درمیان پچھلے ماہ مشترکہ فوجی مشقوں پر اتفاق ہوا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
شمالی کوریا کی جانب سے کم رینج کے بلیسٹک میزائل پروگرام شروع کیے جانے کے بعد امریکہ اور جنوبی کوریا نے مل کر زمین سے زمین پر مار کرنے والے آٹھ میزائل فائر کیے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم اتوار کو شمالی کوریا کے تجربے کے جواب میں کیا گیا ہے۔
جنوبی کوریا کی یونہپ نیوز ایجنسی کے مطابق جنوبی کوریا کے فوجی حکام نے اقدام کو شمالی کوریا کے میزائل پروگرام اور اس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے کسی بھی ممکنہ حملے کے خلاف ’تیاری اور صلاحیت کا مظاہرہ‘ قرار دیا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدر یون سکیوول، جنہوں نے پچھلے ماہ ہی عہدہ سنبھالا ہے، نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے خلاف سخت راستہ اپنائیں گے اور مئی میں سیول میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ مل کر مشقوں اور مل کر دفاعی اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
یونہپ کے مطابق جنوبی کوریا اور امریکہ کی افواج نے صبح پونے پانچ بجے مختصر وقت میں زمین سے زمین پر مار کرنے والے آٹھ میزائل فائر کیے۔
جنوبی کوریا کے سکیورٹی عہدیدار نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آٹھ آرمی ٹیکٹیکل میزائلز سسٹم (اے ٹی اے سی ایم ایس) چلائے گئے۔
شمالی کوریا نے اتوار کو کم مار کرنے والے میزائل اپنے مشرقی ساحل کی طرف فائر کیے تھے اور یہ واحد تجربہ ہے کہ جس کے اگلے ہی روز اس کا جواب دیا گیا ہے۔
یہ پہلی بار ہے کہ جنوبی کوریا اور امریکہ کے مشترکہ فوجی مشقوں پر اتفاق کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔
شمالی کوریا نے کئی ہفتے قبل امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں پر تنقید کرتے ہوئے پیانگ یانگ کے خلاف ’دشمنی کی پالیسی‘ قرار دیا تھا۔
شمالی کوریا نے رواں سال جتنے میزائل پروگرام شروع کیے ہیں جن میں ہائپرسونگ اور بلیسٹک میزائل کے تجربات بھی شامل ہیں۔
واشنگٹن اور سیول کے حکام نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ 2017 کے بعد سے پہلی بار جوہری پروگرام بحال کرنے جا رہا ہے۔
پچھلے ماہ شمال کوریا نے تین میزائل کے تجربات کیے تھے جن میں ایک سب سے بڑا بلیسٹک میزائل بھی شامل تھا اور انہی دنوں بائیڈن نے ایشیا کے دورے کے اختتام پر کہا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کی راہ روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
جنوبی کوریا اور امریکہ کی جانب سے شمالی کوریا کے جواب میں میزائلوں کے تجربات کو ان کے اتحادی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

شیئر: