انڈیا کی مشرقی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ سے قریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ہگلی ندی کے کنارے چنسورہ کے مقام پر ایک نمایاں مقبرہ موجود ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ مقبرہ ایک خاتون کا ہے جس کے بارے میں کہانیاں تو بہت ہیں لیکن مستند تاریخی شواہد بہت کم ہیں۔
چنانچہ ان کہانیوں سے متاثر ہو کر انڈیا کے معروف فِکشن نگار رسکن بانڈ نے انہیں اپنی کہانی میں زندہ کیا، پھر اس کہانی سے متاثر ہو کر معروف فلم ساز اور ہدایت کار وِشال بھاردواج نے ایک فلم ’سات خون معاف‘ بنائی۔
مزید پڑھیں
-
سشمیتا سین کے 50 برس: محبتوں، فیصلوں اور خودداری کا سفرNode ID: 897353
-
دیپکا پاڈوکون کا کوپن ہیگن سے بالی وُڈ کی ملکہ تک کا سفرNode ID: 899082
اس خاتون کا نام سوزینا اینا ماریا بتایا جاتا ہے۔ انہیں ادبی اور فلمی دنیا میں زیادہ تر سوزینا اینا میری یوہانس کے نام سے جانا جاتا ہے۔
وہ ایک ایسی پُراسرار شخصیت ہیں جہاں لوک کہانی، ادب اور سنیما ایک دوسرے میں مدغم ہو کر محبت، تنہائی اور اخلاقی ابہام کی ایک دِل گرفتہ داستان تشکیل دیتے ہیں۔
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسی حقیقی شخصیت رہی ہیں جو برطانوی دور کے دوران بنگال میں آباد تھیں۔
بنگالی روزنامہ آنند بازار پتریکا کی ایک رپورٹ میں لندن میں انڈیا آفس کے ریکارڈ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سوزینا کے دو شوہر تھے۔ سب سے پہلے انہوں نے بنگال کے ڈچ ڈائریکٹر پیٹر بریوز سے اور بعد میں انگریز تاجر تھامس ییٹس سے شادی کی۔
یہ کہا جاتا ہے کہ سوزینا اتنی ہی خوب صورت تھی جتنی ان کی شخصیت پُرکشش تھی۔ ان کی آخری خواہش کے مطابق انہیں عیش باغ میں سپردِ خاک کیا جانا تھا۔
سوزینا نے وصیت کی تھی کہ عیش باغ میں ان کی قبر کا علاقہ انگریزوں اور ولندیزیوں کا قبرستان تصور کیا جائے۔سوزینا کی موت کے وقت چنسورہ میں ڈچ قبرستان قائم کیا گیا۔
تاریخ کے محقق پرتیوش رائے کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ سوزینا کی زندگی میں ان کی سرگرمیوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں، لیکن ایک عام افسانہ ہے کہ وہ خیر خیرات پر بہت توجہ دیتی تھیں۔‘
’اس کے علاوہ ان کی وصیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے اور اپنے شوہر کے مقبروں کی دیکھ بھال کے لیے کل چار ہزار ٹکے چھوڑے تھے۔جائیداد میں اضافی رقم غریبوں کو عطیہ کرنے کے لیے مختص کی گئی تھی۔‘

مؤرخین کے مطابق ان کے کارِخیر کے لیے مقامی ہندوستانیوں میں سوزینا کو ’رانی ماں‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ اس لیے عیش باغ میں موجود یادگار کو ’ملکہ اینا ماریا کا مقبرہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
تاہم تاریخ اور تمام دستاویزات جو کچھ بھی کہتی ہیں، اینا ماریا کا کردار اپنے اردگرد پروان چڑھنے والی لوک داستانوں کی وجہ سے پُراسرار ہو گیا۔
اگرچہ کوئی ثبوت نہیں ہے، لیکن ان کا وجود لیجنڈ کے طور پر موجود ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ سوزینا نے سات شادیاں کیں اور ہر شادی کے بعد ان کا شوہر پُراسرار طور پر غائب ہو گیا۔ اگرچہ سوزینا کو اپنے شوہروں کے قاتل کے طور پر شناخت کیا گیا ہے، لیکن اس کی حمایت میں شواہد نہیں ہیں۔
مقامی روایات میں انہیں ایک ایسی پُراسرار عورت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے کئی شادیاں کیں اور ہر شادی کا انجام کسی نہ کسی غیر واضح سانحے پر ہوا۔
اسی ابہام نے ادیب رسکن بانڈ کے تخیل کو مہمیز دیا اور انہوں نے اسے اپنی مشہور کہانی ’سوزیناز سیون ہزبینڈ‘ یعنی سوزینا کے سات شوہر کی صورت میں ڈھال دیا۔
بانڈ کی تحریر محض سنسنی خیز واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور جذباتی مطالعہ ہے۔ وہ سوزینا کو ایک ایسی عورت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو محبت کی متلاشی ہے مگر بار بار دھوکہ کھاتی ہے۔

اصل کہانی نہایت مختصر تھی، محض چند صفحات پر مشتمل تھی لیکن اس میں اشاروں اور کنایوں کی ایسی گہرائی ہے کہ قاری خود ان خلاؤں کو اپنی سوچ سے پُر کرتا ہے۔
جب وِشال بھاردواج نے یہ کہانی پڑھی تو وہ اس کے انوکھے تصور سے بے حد متاثر ہوئے۔ انہوں نے بانڈ سے درخواست کی کہ وہ اسے مزید وسعت دیں تاکہ اسے فلمی قالب میں ڈھالا جا سکے۔
دی ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق بھاردواج کے اصرار پر بانڈ نے اپنی مختصر کہانی کو 80 صفحات کے ایک ناولٹ میں تبدیل کیا، جس میں ہر شوہر کی شخصیت اور اس کی موت کے پس منظر کو تفصیل سے بیان کیا گیا۔
اس توسیع نے سوزینا کے کردار کو مزید پیچیدہ اور جاندار بنا دیا۔ یہ ادیب اور فلم ساز کے درمیان ایک نادر تخلیقی اشتراک کی مثال ہے جہاں دونوں نے ایک دوسرے کے وژن کا احترام کیا۔
ادبی دنیا میں سوزینا ایک معمہ بنی رہی ہیں۔ وہ دولت مند، خودمختار ہیں لیکن روایتی معاشرے سے بغاوت کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
ان کی ہر شادی دراصل محبت کی تلاش کا ایک نیا باب ہے، مگر ہر بار انہیں ایک ایسے مرد کا سامنا ہوتا ہے جو لالچ، ظلم، ہوس یا فریب جیسی کسی نہ کسی اخلاقی کمزوری کا شکار ہوتا ہے۔

اس طرح سوزینا کا کردار محض ایک قاتلہ کا نہیں بلکہ ایک ایسی عورت کا بن جاتا ہے جو بار بار ٹُوٹنے کے بعد اپنی تقدیر پر خود قابو پانے کی کوشش کرتی ہے۔
جب اس کہانی کو ’سات خون معاف‘ کی صورت میں پردۂ سیمیں پر پیش کیا گیا تو اس میں ایک نئی جہت پیدا ہوئی۔ بھاردواج نے سوزینا کو ایک علامتی اور قریباً اساطیری کردار بنا دیا، جہاں اس کے ساتوں شوہر انسانی کمزوریوں یا گناہوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اس فلم میں کہانی کو زیادہ واضح، ڈرامائی اور بصری انداز میں بیان کیا گیا ہے جب کہ بانڈ کی تحریر میں ابہام اور خاموشی کی ایک خاص کیفیت موجود رہتی ہے۔
فلم کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ تھا کہ بھاردواج نے بانڈ کی بعض دیگر کہانیوں کے کرداروں کو بھی اس بیانیے میں شامل کیا، مثلاً انسپکٹر قیمت لعل، جو اس کی کہانی کو مزید مربوط بناتا ہے۔ اس طرح فلم محض ایک اقتباس نہیں بلکہ ایک تخلیقی باز آفرینی بن گئی۔
سوزینا کی کہانی کا سب سے اہم پہلو اس کی اخلاقی پیچیدگی ہے۔ نہ تو اسے مکمل طور پر مجرم کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی معصوم۔ وہ ایک ایسی سرحد پر کھڑی نظر آتی ہیں جہاں مظلومیت اور جارحیت ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔













