Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یادوں کی خوشبو اور امید کے رنگ: شمالی افغانستان کے سرخ میدانوں میں زندگی کا جشن

یہ پھول افغانوں کے لیے زندگی اور تازگی کا استعارہ بن چکے ہیں(فوٹو: اے ایف پی)
افغانستان کے شمالی علاقوں میں موسمِ بہار کی آمد کے ساتھ ہی زمین نے سرخ چادر اوڑھ لی ہے جہاں ہزاروں افغان شہری برسوں کی خشک سالی کے بعد کِھلے ان شوخ سرخ پھولوں کا جشن منانے کے لیے کھنچے چلے آ رہے ہیں۔
ترکمانستان کی سرحد کے قریب ضلع شیریں تگاب کی وادیاں ان دنوں مقامی سیاحوں سے بھری ہوئی ہیں جہاں حالیہ بھرپور بارشوں کے بعد پوست کے جنگلی پھولوں کی بہار آئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یہ وہ پوست نہیں جس سے افیون کشید کی جاتی ہے اور جس پر طالبان حکومت نے پابندی عائد کر رکھی ہے بلکہ یہ عام ’پوپی‘ (سرخ پوست) کے پھول ہیں جو یہاں کی ثقافت کا حصہ ہیں۔
79 سالہ غوث الدین جو ان پھولوں کے نظارے کے لیے تین گھنٹے کی مسافت طے کر کے یہاں پہنچے، کہتے ہیں ’قریباً 10 برس سے یہاں خشک سالی تھی، کوئی ہریالی تھی نہ پھول۔ اللہ مہربان ہے کہ اس سال اتنی اچھی بہار آئی ہے۔‘

افغانستان کے شمالی حصوں میں نوروز کے بعد ان سرخ پھولوں کی سیر کو جانے کی روایت بہت قدیم ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ثقافتی جڑیں اور پابندیاں
افغانستان کے شمالی حصوں میں نوروز کے بعد ان سرخ پھولوں کی سیر کو جانے کی روایت بہت قدیم ہے۔
اگرچہ طالبان حکومت نے اپنی سخت مذہبی تشریح کے باعث نوروز کی باقاعدہ تقریبات پر پابندی لگا دی ہے لیکن لوگوں کا ان پھولوں سے لگاؤ ختم نہیں ہو سکا۔
افغان شاعری اور لوک گیتوں میں ان پھولوں کا تذکرہ کثرت سے ملتا ہے۔
افغان معاشرت اور پھولوں کے تعلق پر کتاب لکھنے والی فوٹوگرافر اوریان زیراہ کہتی ہیں کہ پھول افغانوں کی زندگی کا لازمی جزو ہیں۔

افغان شاعری اور لوک گیتوں میں ان پھولوں کا تذکرہ کثرت سے ملتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ان کے مطابق ’کسی افغان کے پاس گھر میں تھوڑی سی جگہ ہو تو وہ پھول ضرور اگاتا ہے۔ یہاں تک کہ پناہ گزین کیمپوں میں بھی آپ کو کہیں نہ کہیں کوئی پھول نظر آ جائے گا۔ وہ اسے اپنی روایتی پکول (ٹوپی) پر لگاتے ہیں اور یہاں پھولوں سے مٹھائیاں بھی بنائی جاتی ہیں۔‘
جنگ کی علامت سے زندگی کی امید تک
افغان مصنف تقی وحیدی کے مطابق یہ پھول جہاں برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں جنگی ہلاکتوں کی یاد میں پہنے جاتے ہیں، وہیں افغانستان میں بھی اس کا تعلق جنگ سے رہا ہے۔
ماضی میں اسے لڑائیوں میں ہلاک ہونے والوں کے تابوتوں پر رکھا جاتا تھا جو ’نئی زندگی میں داخلے‘ کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
تاہم موجودہ دور میں یہ پھول افغانوں کے لیے صرف موت کی یادگار نہیں بلکہ زندگی اور تازگی کا استعارہ بن چکے ہیں۔

ماضی میں اس پھول کو لڑائیوں میں ہلاک ہونے والوں کے تابوتوں پر رکھا جاتا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

تقی وحیدی کہتے ہیں ’جب قدرت خود کو نئے رنگوں میں ڈھالتی ہے تو انسان بھی اپنی زندگیوں میں نئے رنگ بھرنے کی خواہش کرتے ہیں۔‘
آج کل شیریں تگاب کے سرخ میدانوں میں خاندانوں کا ہجوم، پکنک مناتے لوگ اور پھولوں کے درمیان کھیلتے بچے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ کٹھن حالات اور پابندیوں کے باوجود افغان عوام فطرت کے رنگوں میں خوشی ڈھونڈنے کا ہنر جانتے ہیں۔

شیئر: