پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان سب سے نمایاں اور متحرک ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران یہ کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے جس کا اظہار علاقائی دارالحکومتوں سے اس کے رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی اپیلوں سے ہو رہا ہے۔ یہ سفارتی طرز عمل سوچا سمجھا ہے جو ایک جانب اس کی تذویراتی پوزیشننگ اور دوسری جانب خلیجی خطے میں اس کے مادی مفادات پر مبنی ہے۔
تاہم پاکستان کی مثال ایک وسیع تر رجحان کی نشاندہی کرتی ہے جس کے تحت مشرق وسطیٰ میں درمیانے درجے کی طاقتوں کی ثالثی شاذ ہی بڑی طاقتوں کے فریم ورک سے باہر ہوتی ہے بلکہ یہ اسی کے اندر پیوست ہوتی ہے اور اس کی افادیت ہم آہنگی اور خاموش قبولیت سے متعین ہوتی ہے۔ یہی بات دیگر ممالک جیسے ترکیہ کے طرز عمل میں بھی نمایاں ہے، جہاں ثالثی کی کوششیں موجودہ جغرافیائی سیاسی ڈھانچے کے اندر ہی انجام پاتی ہیں۔
کامیاب ثالثی کے بارے میں عمومی تصور یہ ہے کہ ثالث اپنی غیر جانبداری کی وجہ سے اہمیت حاصل کرتے ہیں۔ اس تنازع میں پاکستان کا کردار اس مفروضے کو براہِ راست چیلنج کرتا ہے۔
مزید پڑھیں
اسلام آباد نے امریکہ اور ایران کے درمیان 15 نکاتی جنگ بندی فریم ورک میں سہولت کاری کی اور بعد ازاں جنگ بندی میں توسیع بھی اسی ہم آہنگی کے تحت ہوئی۔
ایران نے پاکستان کو مذاکرات میں اس لیے قبول کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ پاکستان کی پیش کردہ تجاویز کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔
پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان براہ راست رابطوں کو برقرار رکھا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر جنرل عاصم منیر کو اپنا ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ قرار دے چکے ہیں۔

یہ غیر معمولی ذاتی قربت ہے جسے گزشتہ سال جون اور ستمبر میں وائٹ ہاؤس کے دوروں نے مزید مضبوط کیا، اور اس نے خطے میں پاکستانی سفارت کاری کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ تمام فریق یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جنرل عاصم منیر کے ذریعے پیش کی جانے والی تجاویز براہ راست اوول آفس تک رسائی رکھتی ہیں۔
چین کی جانب سے بیک وقت روابط کے باوجود پاکستان نے واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے جس سے اسے نمایاں معاشی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔
2025 میں امریکہ نے دیگر مقامات پر امداد میں کٹوتی کے باوجود پاکستان کے لیے 397 ملین ڈالر کی سکیورٹی معاونت کی منظوری دی جس کا خاص ہدف ایف-16 بیڑے کی دیکھ بھال اور وسیع تر فوجی تعاون تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ تعاون خلیجی ممالک میں اسلام آباد کی حیثیت کو مضبوط کرتا ہے جو خود بھی امریکی سکیورٹی چھتری تلے کام کرتے ہیں۔ اسی مہینے پاکستان نے 1979 کے بعد پہلی اعلیٰ سطحی امریکہ-ایران ملاقات کی میزبانی کی، جو واشنگٹن کے ساتھ اس کے مضبوط تعلقات کے باعث ممکن ہوئی۔

پاکستان کی ثالثی کی کوششیں اس کی واضح سفارتی خواہشات کی عکاسی کرتی ہیں جنہیں جزوی طور پر خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے معاشی تعلقات نے شکل دی ہے، جن میں ترسیلات زر اور خطے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی پاکستانی کمیونٹی ہے۔
2025 میں پاکستان کو مجموعی طور پر 38.3 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں جن میں سے 60 سے 65 فیصد خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آئیں۔ پاکستان کی تقریباً 85 فیصد تیل کی درآمدات اور تقریباً تمام مائع قدرتی گیس کی سپلائی خلیج سے آتی ہے۔
سعودی عرب نے تین ارب ڈالر پاکستان کے پاس بطور امانت رکھے ہوئے ہیں اور اس نے تقریباً پانچ ارب ڈالر کی مالی مدد میں توسیع بھی کی ہے، جو مسلسل مالی دباؤ کا شکار معیشت کے لیے ایک اہم سہارا ہے۔
پاکستان کے لیے علاقائی کشیدگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں کسی بھی رکاوٹ سے نہ صرف اس کی توانائی کی فراہمی بلکہ کروڑوں گھروں کو سہارا دینے والی ترسیلات زر بھی براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔

خلیج سے ہٹ کر، پاکستان کی ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد بھی ہے۔ اس سرحد پر طویل تنازع نہ صرف مہاجرین کی آمد کے حوالے سے سنگین خطرات پیدا کرے گا بلکہ بلوچستان میں پہلے سے خراب ہوتی سکیورٹی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ انہی وجوہات کی بنا پر ثالثی پاکستان کے لیے ایک اہم ضرورت بن چکی ہے۔
اس بحران کے دوران ترکیہ کے سفارت کاروں نے اگرچہ پاکستان کے مقابلے میں محدود لیکن مختلف انداز اختیار کیا۔
نیٹو کا رکن ہونے کے باعث انقرہ کے لیے آزادانہ حکمت عملی پر عمل کرنا ممکن نہیں کیونکہ ثالثی کی کوئی بھی کوشش اس کے اتحادی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونی چاہیے اور ایسا مؤقف اختیار نہیں کیا جا سکتا جو امریکہ یا دیگر اتحادیوں کے لیے باعث تشویش ہو۔
ان حدود کے اندر رہتے ہوئے انقرہ نے ایران، خلیجی دارالحکومتوں اور مغربی حکومتوں کے ساتھ بیک وقت روابط برقرار رکھے ہیں اور خود کو ایک کثیر جہتی رابطہ کار کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس نے کسی بھی کشیدگی بڑھانے والے اقدام میں شرکت سے گریز کیا جبکہ نیٹو کے ساتھ اپنی وابستگی کو مکمل طور پر برقرار رکھا، جس میں انجرلک ایئر بیس پر امریکی اثاثوں کی میزبانی بھی شامل ہے۔ اس طرح نیٹو کی رکنیت ترکیہ کی سفارت کاری کو اہمیت بھی دیتی ہے اور اس کی حدود بھی متعین کرتی ہے۔
ترکیہ کے حسابات زیادہ تر جغرافیائی سیاسی نوعیت کے ہیں کیونکہ خلیج کے ساتھ اس کی معاشی وابستگی پاکستان سے مختلف ہے۔
تاہم دونوں ممالک میں ایک مشترک پہلو یہ ہے کہ ان کی ثالثی کی ساکھ بڑی طاقت کے ساتھ ہم آہنگی اور اس تک رسائی سے جڑی ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی واشنگٹن کے خلاف جا کر اسی تنازع میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتا۔ ان کی گنجائش کا دارومدار اسی پر ہے کہ واشنگٹن کتنی گنجائش فراہم کرتا ہے۔

امریکہ کے علاوہ، چین کا رویہ اس تنازع میں اس کی عمومی علاقائی پالیسی کے مطابق رہا ہے یعنی تجارتی مفادات کا تحفظ، تنازعات سے گریز اور ادارہ جاتی سطح پر غیر فعال طرز عمل۔ بیجنگ کی ترجیح کسی بحران کو حل کرنا نہیں بلکہ توانائی کی ترسیل اور تجارتی راستوں کا تحفظ ہے۔
روس، جس کے ایران کے ساتھ تعلقات نظریاتی طور پر اسے ایک اہم ثالث بنا سکتے تھے، نے اس حوالے سے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔ یوکرین جنگ نے ماسکو کی سفارتی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور امریکی پابندیوں میں نرمی نے اسے اضافی آمدنی دی ہے جو اس کی جنگی کوششوں کو تقویت دیتی ہے۔ اس لیے استحکام اس کے فوری مفاد میں نہیں اور نہ ہی اس نے جنگ بندی کے لیے کوئی اقدام اٹھایا ہے۔ یوں دونوں بڑی طاقتوں نے یہ خلا پر نہیں کیا۔
یہی وہ خلا تھا جس میں پاکستان اور ترکیہ نے قدم رکھا۔ تاہم اہم نکتہ یہ ہے کہ اس خلا کو پُر کرنے میں ان کی مؤثریت کا انحصار اس بڑی طاقت کے ساتھ ان کی ہم آہنگی پر تھا جو درحقیقت مجموعی فریم ورک کو کنٹرول کر رہی تھی۔ پاکستان کی واشنگٹن اور بیجنگ دونوں تک رسائی، جس میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت سعودی عرب بھی سرمایہ کار ہے، اور خلیجی دارالحکومتوں کے ساتھ روابط اسے ایک سہ جہتی سفارتی برتری فراہم کرتے ہیں۔
اس تنازع کے دوران پاکستان کے ثالثی کردار سے چند اہم نکات واضح ہوتے ہیں کہ موجودہ مشرق وسطیٰ میں درمیانے درجے کی طاقتوں کی سفارت کاری کس طرح کام کرتی ہے۔ اول، ایک ثالث کی ساکھ بڑی طاقتوں تک رسائی سے پیدا ہوتی ہے۔ دوم، معاشی کمزوری سفارتی سرگرمی کا محرک بن سکتی ہے کیونکہ وہ ممالک جو عدم استحکام سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اسے کنٹرول کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ سوم، درمیانی طاقتوں کے لیے مواقع اس وقت بڑھتے ہیں جب بڑی طاقتیں فعال نہ ہوں مگر ان کی مؤثریت پھر بھی بڑی طاقتوں کی ترجیحات سے محدود رہتی ہے۔

خلیجی ممالک بھی ایک مماثل صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ موجودہ ماحول میں امریکی سکیورٹی پر ان کا انحصار مزید مضبوط ہو گیا ہے جبکہ بیجنگ کی جانب محتاط جھکاؤ اس تنازع میں زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوا۔ نہ چین اور نہ ہی روس اس بحران کے دوران علاقائی استحکام کی ضمانت دینے کے لیے تیار یا قابل نظر آئے، جس کے باعث واشنگٹن ایک ناگزیر سکیورٹی ضامن کے طور پر سامنے آیا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان جیسے امریکہ سے ہم آہنگ ثالث کو علاقائی سفارت کاری میں آسانی سے قبول کیا جاتا ہے۔
چنانچہ درمیانی طاقتیں بیک وقت متعدد ہم آہنگیوں کو سنبھالتے ہوئے اور بحران کے لمحات کو سفارتی نمایاں حیثیت میں تبدیل کرتے ہوئے اپنی پوزیشن مضبوط کرتی ہیں۔ ان کی سرگرمیاں ایک بڑے رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ اس قدر تزویراتی اور معاشی اہمیت رکھتا ہے کہ اس سے وابستہ کوئی بھی ملک اس میں عدم استحکام کے وقت لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ واشنگٹن نے بھی اس انتظام کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے جس کے تحت ثالثی کا عمل ہم آہنگ درمیانی طاقتوں کے سپرد کر کے وہ خود براہ راست مداخلت کے بغیر نتائج پر اثرانداز ہوتا ہے۔
اس کا نتیجہ ایک ابھرتا ہوا علاقائی سفارتی منظرنامہ ہے جہاں درمیانے درجے اس کا نتیجہ ایک ابھرتا ہوا علاقائی سفارتی منظرنامہ ہے جہاں درمیانے درجے کی طاقتوں کی شمولیت واضح طور پر بڑھ رہی ہے،چاہے وہ امریکہ کی دی گئی مراعات کے تحت ہو یا اس کے بغیر۔
زید ایم بیلباجی سیاسی مبصر ہیں اور لندن اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے درمیان نجی کلائنٹس کو مشاورت فراہم کرتے ہیں۔ ایکس: @Moulay_Zaid












