نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کا کنگ چارلس سے کوہِ نور ہیرے کی واپسی کا مطالبہ
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کا کنگ چارلس سے کوہِ نور ہیرے کی واپسی کا مطالبہ
جمعرات 30 اپریل 2026 10:08
نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے بدھ کے روز برطانوی بادشاہ کنگ چارلس کے سرکاری دورے کے تیسرے دن یہ مطالبہ کیا کہ وہ قیمتی کوہِ نور ہیرا ’واپس کریں‘، جسے برطانوی سلطنت نے 1800 کی دہائی میں برصغیر سے حاصل کیا تھا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نائن الیون کی یادگاری تقریب میں کنگ چارلس اور ملکہ کامیلا سے ملاقات سے قبل ظہران ممدانی سے پوچھا گیا کہ انہیں اگر بادشاہ سے بات کرنے کا موقع ملا تو وہ کیا گفتگو کریں گے؟
انہوں نے کہا کہ ’میں اگر بادشاہ سے الگ سے بات کرتا تو شاید میں انہیں کوہِ نور ہیرا واپس کرنے کی ترغیب دیتا‘، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی اصل توجہ دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے پر ہوگی۔
یہ واضح نہیں کہ ظہران ممدانی نے ملاقات کے دوران واقعی یہ متنازع موضوع چھیڑا یا نہیں۔
دونوں کی ملاقات کے دوران یہ دیکھا گیا کہ بادشاہ چارلس نے جب ظہران ممدانی سے مصافحہ کیا تو انہوں نے ان کے ساتھ مسکراتے ہوئے مختصر گفتگو کی۔
106 قیراط وزنی یہ ہیرا اس وقت ٹاور آف لندن میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے اور برطانیہ کے شاہی جواہرات میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ملکہ الزبتھ (دی کوئین مدر) کے تاج کا حصہ بھی رہ چکا ہے۔
کوہِ نور ہیرا برطانیہ کے شاہی جواہرات میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے (فوٹو: گیٹی)
اس ہیرے کی ملکیت صدیوں سے متنازع رہی ہے۔ یہ مغل بادشاہوں، ایرانی شاہوں اور سکھ مہاراجاؤں کے پاس رہا، اور بالآخر 1849 میں ایک امن معاہدے کے تحت مملکتِ پنجاب نے اسے ملکہ وکٹوریہ کے حوالے کر دیا۔
بھارت کئی بار اس قیمتی ہیرے کی واپسی کا مطالبہ کر چکا ہے، مگر اسے کامیابی نہیں ملی۔
اس بارے میں اگرچہ زیادہ شک نہیں کہ یہ ہیرا بھارت سے نکالا گیا تھا، لیکن اس کے بعد کی تاریخ حقیقت اور افسانوں کا مجموعہ ہے، اور افغانستان، ایران اور پاکستان سمیت کئی ممالک اس ہیرے پر اپنا دعویٰ رکھتے ہیں۔
امیگریشن مخالف جماعت ریفارم یو کے سے منسلک ایک سیاست دان نے اس بیان کو ’بادشاہ کی توہین‘ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔
جماعت کے داخلہ امور کے ترجمان ضیا یوسف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’یہ خوبصورت ہیرا اس وقت ٹاور آف لندن میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے، اور یہ یہیں رہے گا۔‘