اسلام آباد کا ’ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو‘، انتظامیہ یہ مہنگی ترین عمارت کیوں خالی کرا رہی ہے؟
جمعہ 1 مئی 2026 9:35
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے انتہائی حساس علاقے ریڈ زون میں واقع ’ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو‘ جسے گرینڈ حیات بلڈنگ بھی کہا جاتا ہے، کو خالی کروانے کے لیے انتظامیہ نے ’کارروائی‘ کا آغاز کر دیا ہے۔
جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری پہلے کنونشن سینٹر میں جمع ہوئی اور پھر کچھ دیر بعد سرینا ہوٹل کے قریب واقع ان ٹاورز کی جانب پیش قدمی کی۔
اس موقعے پر موجود پولیس حکام نے بلڈنگ کے مکینوں کو آگاہ کیا کہ یہ عمارت غیر قانونی قرار دی جا چکی ہے، اس لیے اسے فوری طور پر خالی کیا جائے۔
انتظامیہ نے رہائشیوں کو ایک دن کی حتمی مہلت دیتے ہوئے وارننگ جاری کی ہے کہ اگر مقررہ وقت کے اندر انخلاء مکمل نہ ہوا تو زبردستی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع یہ ’ٹوئن ٹاورز‘ اپنی تعمیر کے آغاز سے ہی تنازعات کا شکار رہے ہیں۔
اس منصوبے کا آغاز سنہ 2004 -05 میں ہوا جب سی ڈی اے نے بی این پی گروپ کو ہوٹل کی تعمیر کے لیے یہ پلاٹ لیز پر دیا تھا۔
بلڈنگ کا ڈھانچہ سنہ 2008 سے سنہ 2015 کے درمیان مکمل ہوا، تاہم ہوٹل کے بجائے رہائشی اپارٹمنٹس کی فروخت اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سی ڈی اے نے سنہ 2016 میں اس کی لیز منسوخ کر دی تھی۔
سال 2019-20 میں سپریم کورٹ نے عوامی سرمایہ کاری کے تحفظ کے پیشِ نظر بلڈنگ کو گرانے کے بجائے ریگولرائز کرنے کا حکم دیا اور ڈویلپر پر ساڑھے 17 ارب روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا، جو اقساط میں ادا کرنا تھا۔
اس بلڈنگ میں پاکستان کی اہم ترین شخصیات، بشمول سینیئر سیاست دانوں، سابق ججز، اور اعلیٰ سول و فوجی بیوروکریٹس کے اپارٹمنٹس ہونے کی اطلاعات بھی رہی ہیں۔
سی ڈی اے کی جانب سے بلڈنگ کی لیز منسوخ کرنے کا فیصلہ ڈویلپر کی جانب سے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا، جہاں طویل عرصہ یہ معاملہ زیرِ سماعت رہا۔
تاہم لیز کے معاملات پر حالیہ عدالتی فیصلہ انتظامیہ کے حق میں آنے اور ڈویلپر کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی پر ضلعی انتظامیہ اور سی ڈی اے نے کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب رات گئے ہونے والی اس اچانک کارروائی نے مکینوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پر زیرِ گردش پیغامات میں رہائشیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’پولیس نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے دروازے توڑنے کی کوشش کی‘ اور انہیں زبردستی نکالنے کا عمل شروع کیا، جس سے خواتین اور بچوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
