Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قصیم کے نیچرل پارک میں ’الغضا درخت‘ جس کی جڑیں عرب شاعری میں بھی ملتی ہیں

قصیم ریجن کی عنیزہ کمشنری میں واقع الغضا نیچرل پارک انتہائی منفرد ماحولیاتی سیاحت کے مقام کے طور مقبول ہے۔
ایس پی اے کے مطابق عنیزہ کمشنری کے الغضا پارک کا شمار دنیا بھر میں سب سے بڑے نباتاتی پارک میں ہوتا ہے جسے گنیز ورلڈ ریکارڈ میں بھی درج کیا گیا۔
پارک کا مجموعی رقبہ 42 ہزار 585 ایکڑ ہے جہاں صحرائی فطرت اور مقامی نباتاتی ماحول انتہائی دلکش منظر پیش کرتے ہیں جو سیاحوں، قدرتی ماحول اور صحرائی مہم جوئی کے شوقین افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔
الغضا پارک، درختوں اور جنگلی پودوں کی کثرت کے باعث اہم ہے جو اسے منفرد ماحولیاتی شناخت دیتے ہیں۔ یہاں وسیع وعریض کھلے میدان ہیں جو کیمپنگ کے لیے باعث کشش ہیں۔ 
الغضا پارک ایک وسیع صحرائی علاقہ ہے۔ یہاں الغضا (ایک صحرائی درخت ہے جو جزیرہ نما عرب کی ماحولیاتی شناخت کی علامت مانا جاتا ہے۔ یہ درخت گرمی اور پانی کی قلت کے باوجود سرسبز رہتا ہے) کی کثرت کی وجہ سے اس کا نام ’الغضا پارک‘ پڑ گیا۔

ہر برس الغضا ونٹر فیسٹیول کا خصوصی طور پر اہتمام کیا جاتا ہے، یہ سائٹ پرسکون صحرا کے مناظر اور تفریحی سرگرمیوں کا امتزاج پیش کرتی ہے جس میں موٹر سائیکل ایڈونچر سپورٹس شامل ہیں۔
یہ پارک عنیزہ میں ماحولیاتی سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیٹرز کو یہاں ایک ایسی منفرد تفریحی فضا میسر آتی ہے جہاں سکون، قدرتی ماحول اور تفریحی سرگرمیاں یکجا ہیں۔
ایس پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے وزارت ماحولیات، پانی و زراعت کے ریجنل ڈائریکٹر مشحن المشحن نے بتایا کہ ’وزارت اور قومی مرکز برائے ترقی نباتات کے تعاون سے جامع منصوبوں کے تحت پارک کے تحفظ کےلیے کام کیا جا رہا ہے۔‘

 قومی مرکز کے تحت 5 لاکھ سے زائد الغضا کے پودے اور 10 لاکھ  کے قریب ارطی درخت فراہم کیے گئے ہیں، پارک کے اندر 40 لاکھ مربع میٹر رقبے پر حفاظتی باڑ لگانے کا منصوبہ مکمل کیا گیا۔
 تحفظ ماحولیات کے کارکن عبداللہ العبد الجبار کا کہنا تھا کہ ’الغضا درخت کو ہمیشہ سے توجہ حاصل کر رہی ہے۔ بڑھتے ہوئے ماحولیاتی شعور کے باعث یہ عنیزہ کے نباتاتی ماحول کا نمایاں جزو بن چکا ہے۔‘

 عنیزہ میں الغضا کے پھیلاؤ کے اہم مقامات ہیں جن میں الخبیبہ، المصفر، الغمیس، الجندلیہ، المغیسلیہ، الحراحیہ اور الشقیقہ وغیرہ شامل ہیں جو ماحولیاتی اور قدرتی اہمیت رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق الغضا درخت کو عربی شاعری میں بھی نمایاں مقام حاصل ہے۔ متعدد شعرا نے اس درخت کے حسن اور اہمیت کو اپنی شاعری کی زینت بنایا ہے، ان میں مشہور شاعر مالک بن الریب شامل ہیں۔

شیئر: