Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

راولپنڈی میں پولیس مقابلے میں مارا جانے والا ڈکیت بلال ثابت کون تھا؟

آئی جی اسلام آباد کی طرف سے پولیس اور آئی بی کے اس ٹیم ورک کو سراہا گیا ہے۔ (فائل فوٹو: پولیس)
اسلام آباد پولیس نے راولپنڈی کے قریب ڈکیتیوں میں ملوث سب سے بڑے گینگ کے سربراہ بلال ثابت کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پیر کو ترجمان ترجمان اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ اسلام آباد، راولپنڈی کی پولیس اور آئی بی کی مشترکہ کارروائی میں معروف کرمنل بلال ثابت کو ایک پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔
راولپنڈی پولیس کے مطابق ’بلال ثابت پولیس افسران کے قتل، ایڈیشنل آئی جی موٹروے پر حملہ کر کے ان کے بھائی کو مارنے، سینکڑوں ڈکیتیوں اور سنگین وارداتوں میں ملوث تھا۔‘       
گزشتہ کچھ برسوں سے بالخصوص گزشتہ سال پولیس کے لیے سب سے بڑا چیلنج بلال ثابت گینگ ہی تھا کیونکہ اس نے نہ صرف پولیس کی ناک میں دم کیے رکھا بلکہ یہ بعض اوقات پولیس کو چیلنج کرکے ڈکیتی کرتے تھے۔ بلال ثابت اس گینگ کا سربراہ تھا۔
پولیس حکام کے مطابق یہ گینگ شبلی فراز، ڈاکٹر قدیر خان کی بیٹی کے گھر اور آئی جی کے گھر کے سامنے ڈکیتی کی کروڑوں روپے کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ 
یہ گینگ اسلام آباد سے گاڑیاں بھی چوری کرتا ہے جنہیں پھر ٹیمپر کر کے مارکیٹ میں بیچ دیتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل انہوں نے وزیراعظم کے سیکریٹری اعظم خان کی گاڑی بھی چرا لی تھی اور جب وہ گاڑی پولیس کو ملی تو اس پر جو فنگر پرنٹس تھے وہ ارشد نامی ڈکیت کے تھے جسے 18 دسمبر 2021 کو بحریہ ٹاؤن ڈکیتی کے دوران اس کے ساتھی ذاکر کے ہمراہ مار دیا گیا تھا۔ 
اس پولیس مقابلے میں ڈاکوؤں نے جو بندوق استعمال کی وہ سینیٹر نزہت صادق کے گھر سے چوری کی گئی تھی جو پولیس نے گولیوں سمیت برآمد کی۔ 
 آئی جی اسلام آباد کی طرف سے پولیس اور آئی بی کے اس ٹیم ورک کو سراہا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق بلال ثابت خود اعلیٰ پولیس افسران کو فون کرکے قتل کی دھمکیاں بھی دیتا تھا۔  

بلال ثابت گینگ اسلام آباد سے گاڑیاں بھی چوری کرتا ہے۔ (فوٹو: فلکر)

بلال ثابت گینگ نے حال ہی میں سیکٹر ڈی 12 میں اسلام آباد پولیس اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی تھی تاہم وہ اس میں محفوظ رہے تھے۔
اسلام آباد پولیس ایک عرصے سے بلال ثابت گینگ کے سربراہ کی گرفتاری کے لیے کوشاں تھی اور اس مقصد کے لیے سابق آئی جی اسلام آباد نے نئی حکمت عملی بھی مرتب کی تھی کہ جس کے تحت جرائم پیشہ افراد کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی گئی اور جدید خطوط پر ڈکیتیاں روکنے کے لیے دیگر ایجنسیوں سے تعاون لینے اور باہمی رابطے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں پولیس بلال ثابت کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

شیئر: