Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لیبیا کے مسلح گروپوں میں جھڑپیں، 16 ہلاک ، 52 زخمی

جنگ بندی کے بعد اس لڑائی میں پہلی بارعام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ فوٹو اے ایف پی
لیبیا کے دارالحکومت  طرابلس میں دو مسلح گروپوں کے مابین ہونے والی متعدد جھڑپوں میں کم ازکم 16 افراد ہلاک اور 52 زخمی ہو گئے۔
اے ایف پی نیوز ایجنسی کے حوالے سے  لیبیا کی  وزارت صحت نےبتایا ہے کہ دارالحکومت طرابلس کو  نشانہ بنانے کے لیے سیاسی طور پر جاری   یہ  تازہ ترین تشدد ہے۔
وزارت صحت کی  ایمبولینس سروس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ جمعرات کی شام سے شروع ہونے والی جھڑپیں جمعہ کی دوپہر تک جاری رہیں۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں 13ہلاکتوں کی خبر آئی تھی جس میں تین عام شہری بھی شامل تھے۔ بعدازاں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 16 بتائی گئی۔
واضح رہے کہ جھڑپیں جنگ زدہ لیبیا کے مغرب میں بڑی طاقت رکھنے والے دو مسلح گروپوں الردع فورس اور طرابلس کی انقلابی بریگیڈ کے درمیان ہوئی تھیں۔
دیگر ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ان جھڑپوں کا آغاز ایک مسلح گروپ کی طرف سے دوسرے گروپ کے جنگجو کو حراست میں لینے سے ہوا جو بعدازاں دارالحکومت کے قریب کئی اضلاع تک پھیل گئیں۔
اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ شدید فائرنگ سے قبل طرابلس میں ٹرپل فور بریگیڈ نامی ایک گروپ نے جمعہ کو جنگ بندی کی ثالثی کے لیے مداخلت کی اور  بفر زون میں اپنی فوج تعینات کر دی۔

قذافی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے لیبیا عدم تحفظ کی لپیٹ میں ہے۔ فوٹو عرب نیوز

لیبیا کی وزارت صحت  کے بیان میں کہا  گیا ہے کہ طرابلس میں تمام زخمیوں کو ہسپتالوں میں طبی امداد  دی گئی ہےتاہم ہلاک ہونے والوں میں کتنے شہری ہیں اس کی بابت کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔
ادھر لیبیا کے وزیر اعظم عبدالحمید الدبیبہ  نے  جھڑپوں کے بعد وزیر داخلہ خالد مازن کو معطل کر دیا ہے  اور ان کی جگہ وزیر بلدیات بدر الدین الطومی کو عبوری بنیادوں پر اضافی چارج دے دیا ہے ۔
دارالحکومت  طرابلس کا معیتیقہ انٹرنیشنل  ائیرپورٹ  جمعہ کو کئی گھنٹے کے لیے بند کیاگیا جو ہفتے کو دوبارہ کھول دیا گیا۔
واضح رہے کہ2011 میں نیٹو کی حمایت کے  بعد لیبیا کے صدر معمر قذافی کا  تختہ الٹنے اور انہیں ہلاک کرنے کے بعد سے لیبیا عدم تحفظ کی لپیٹ میں ہے۔
ملک میں طاقت کا خلا پیدا ہونے کے بعد سے لیبیا میں موجود مسلح گروپ برسوں سے جھگڑ رہے ہیں۔

جھڑپیں الردع فورس اور طرابلس کی انقلابی بریگیڈ کے درمیان ہوئیں۔ فوٹو اے ایف پی

لیبیا میں کئی مہینوں سے کشیدگی بڑھ رہی ہے کیونکہ یہاں  دو وزرائے اعظم کے مابین  اقتدار کے لیے مقابلہ ہے تاہم دوسال کی تاریخی جنگ بندی کے بعد مشرقی علاقے کے فوجی سربراہ خلیفہ بلقاسم حفتر کی جانب سے طرابلس پر قبضے کی کوشش کے  خاتمے کے بعد مزید تنازعات  کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
دو مسلح گروپوں کے مابین 2020 سے جنگ بندی کے بعد طرابلس میں ہونے والی اس لڑائی میں پہلی بار عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
ان جھڑپوں میں آمنے سامنے دونوں مسلح گروپ عبدالحمید دبیبہ کی قومی اتحاد کی حکومت کے برائے نام وفادارہیں۔
گذشتہ سال اقوام متحدہ کی حمایت کے بعد امن عمل کے طورپر انہیں ملک کے ایک حصے میں حکومت دی گئی۔
دریں اثنا عبدالحمید  دبیبہ نے فوجی سربراہ خلیقہ حفتر کے ساتھ معاہدہ کے بعد لیبیا کے مشرق میں وزیراعظم کے طور پر نامزد کردہ فتحی باشاغا کو اقتدار سونپنے سے انکار کر دیا ہے۔
 

شیئر: