’امریکہ پچھتائے گا‘، ایران کی جانب سے اسرائیلی اور امریکی اڈوں پر حملوں کی نئی لہر
’امریکہ پچھتائے گا‘، ایران کی جانب سے اسرائیلی اور امریکی اڈوں پر حملوں کی نئی لہر
جمعرات 5 مارچ 2026 12:57
اسرائیل کا کہنا ہے کہ جمعرات کو اس نے تہران پر حملے کیے ہیں (فوٹو: اے پی)
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران نے جمعرات کی صبح اسرائیلی اور امریکی اڈوں پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے جس کے بعد یروشلم اور تل ابیب میں خطرے کے سائرن سنے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کو بحری جہاز تباہ کرنے پر امریکہ کو بہت پچھتانا پڑے گا۔
دوسری طرف اسرائیل کا بھی کہنا ہے کہ اس نے تہران پر ایک بڑا حملہ شروع کر دیا ہے جبکہ ایرانی حملوں کے بعد یروشلم اور تل ابیب میں خطرے کے سائرن بھی سنے گئے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے کہا ہے کہ ایرانی میزائل امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروہ حزب اللہ پر ٹارگٹڈ حملے کیے ہیں اور تہران میں ’بنیادی انفراسٹرکچر کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کی لہر‘ شروع کی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔
اسرائیل کے اس اعلان کے کچھ ہی دیر بعد تہران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
امریکی بحریہ نے منگل کی رات بحرِ ہند میں ایرانی جنگی جہاز آئی آر آئی ایس دیناکو غرق کر دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 87 ایرانی ملاح ہلاک ہو گئے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو اس واقعے کو سمندر میں بربریت اور ظلم قرار دیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’یہ جہاز انڈین بحریہ کا مہمان تھا جس پر تقریباً 130 ملاح سوار تھے اور ان کو بین الاقوامی پانیوں میں بغیر کسی وارننگ کے نشانہ بنایا گیا۔‘
ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے کہا ہے کہ ایرانی میزائل امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
انہوں نے خبردار کیا کہ ’میری بات یاد رکھیں، امریکہ نے یہ جو نظیر قائم کی ہے تو وہ اس پر شدید پچھتائے گا۔‘
آیت اللہ عبداللہ جوادی آملی ایران کے ان چند مذہبی رہنمائؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے موجودہ حالات میں بھی بیانات جاری کیے ہیں۔
انہوں نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ملک ’ایک بڑے امتحان کے دہانے پر کھرا ہے۔‘
انہوں نے سرکاری ٹیلی وژن چینل پر بات کرتے ہوئے ’صہیونیوں اور ٹرمپ کا خون بہانے‘ کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ظالم امریکہ سے لڑو، یہ ذمہ داری اب میرے کندھوں پر ہے۔‘
امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز جنگ کا آغاز کیا، ایران کی قیادت کو نشانہ بنایا اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کر دیا۔ ساتھ ہی ایران کے میزائل ذخیرے اور جوہری پروگرام کو بھی نشانہ بنایا۔
امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں نے اشارہ دیا ہے کہ حکومت کا تختہ الٹنا ایک مقصد ہو سکتا ہے، تاہم درست اہداف اور مدت بار بار تبدیل کی جا رہی ہے، جس سے ایک طویل اور غیرمعینہ جنگ کا عندیہ ملتا ہے۔
ان ممالک کے حکام کے مطابق اس جنگ میں ایران میں ایک ہزار سے زائد افراد، لبنان میں 70 سے زیادہ اور اسرائیل میں تقریباً ایک درجن افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سنیچر کو ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ ابھی تک جاری ہے (فوٹو: اے پی)
اس نے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی ترسیل کو متاثر کیا ہے، بین الاقوامی بحری جہاز رانی کو درہم برہم کر دیا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں لاکھوں مسافر پھنس گئے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتے ہوئے خطرات
ایران کے نیم فوجی پاسداران انقلاب کی جانب سے خطے کے بنیادی فوجی اور اقتصادی ڈھانچے کی مکمل تباہی کی دھمکی کے بعد خطے کے ممالک نے جمعرات کو بھی ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر اپنی ممکنہ تیاریوں کا سلسلہ جاری رکھا۔
قطر کی وزارتِ داخلہ نے کہا کہ دوحہ میں امریکی سفارت خانے کے قریب رہنے والے افراد کو عارضی احتیاطی اقدام کے طور پر منتقل کیا جا رہا ہے، تاہم مزید تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس نے اردن سے ملحقہ اپنے صوبے میں ایک ڈرون کو تباہ کر دیا ہے۔
کویت کے ساحل کے قریب ایک نئے حملے کے بعد خطے میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
برطانوی فوج کے زیر انتظام یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کے ایک بیان کے مطابق جمعرات کی صبح سویرے اس علاقے میں ایک دھماکا ہوا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بظاہر ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔
ایران ماضی میں بھی جہازوں کے ساتھ بارودی سرنگیں نصب کر کے ان پر حملے کرتا رہا ہے۔