Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور ہائیکورٹ کے ججز کی مریم نواز کا پاسپورٹ کیس سننے سے چوتھی بار معذرت

ہائیکورٹ نے درخواست کی سماعت کے لیے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔ (فوٹو: لاہور ہائیکورٹ)
لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست سننے سے معذرت کر لی ہے۔
جمعرات کو جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس انوارالحق پنوں پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کرنا تھی تاہم جیسے ہی سماعت کا آغاز ہوا تو بینچ کے سربراہ جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ یہ فائل واپس چیف جسٹس آفس میں جا رہی ہے۔
رواں سال اپریل سے لے کر اب تک تین مختلف ججز مریم نواز کی درخواست کی سماعت کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔
مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ میں ایک نئی درخواست دائر کی تھی جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ ان کا پاسپورٹ واپس کیا جائے جو چار سال قبل ضمانت کے طور پر اسی عدالت میں رکھوایا گیا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ نے اس درخواست کی سماعت کے لیے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔
مریم نواز نے اپنی نئی درخواست میں کہا تھا کہ چار سال قبل جس مقدمے میں نیب نے انہیں گرفتار کیا اس میں آج تک نہ تو ان پر کوئی فرد جرم عائد کی گئی اور نہ ہی اس کیس کا ٹرائل شروع ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ’چار سال تک کسی شہری کے بنیادی حقوق معطل رکھنا خلاف آئین ہے۔‘
خیال رہے کہ مریم نواز کو اگست 2019 میں چوہدری شوگر ملز کیس میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ جیل میں اپنے والد اور پارٹی قائد نواز شریف سے ملاقات کر رہیں تھیں۔
مریم نواز 48 دن اس کیس میں نیب کی حراست میں رہیں جس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا۔
بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے انہیں ضمانت بعد از گرفتاری میں رہا کیا تاہم انہوں نے عدالتی حکم کے مطابق 7 کروڑ روپے نقد اور اپنا پاسپورٹ ڈپٹی رجسٹرار کے پاس رکھوا دیا۔

تین ججز نے انکار اور تین بینچ ٹوٹنے کے بعد مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ سے اپنی درخواست واپس لے لی تھی۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ججز کا کیس سننے سے انکار

اس سے قبل مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے پاسپورٹ واپس لینے کی درخواست اپریل میں اس وقت دائر کی جب مسلم لیگ ن اور اتحادیوں نے حکومت سنبھالی تھی۔
تاہم اس وقت ایک ایسی صورت حال پیدا ہوئی جس میں تین مرتبہ مختلف ججز نے ان کا کیس سننے سے معذرت کی تھی۔
پہلا بینچ جسٹس انوارالحق پنوں اور جسٹس سید شہباز علی رضوی پر مشتمل تھا۔ اس بینچ کے جسٹس سید شہباز علی رضوی نے یہ کیس سننے سے معذرت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اس درخواست کو وہی بینچ سنے جس نے پہلے ضمانت کی درخواست سنی تھی، فائل واپس چیف جسٹس منیر بھٹی کو بھیج دی گئی۔
چیف جسٹس نے کیس دوبارہ ایک نئے دو رکنی بینچ کو بھیج دیا جو جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل تھا۔
لیکن جیسے ہی کیس کی سماعت شروع ہوئی تو بینچ سربراہ جسٹس علی باقر نے یہ ریمارکس دیے کہ ان کے ساتھی جج یہ کیس سننا نہیں چاہتے اس لیے یہ فائل واپس چیف جسٹس صاحب کو جا رہی ہے۔
تیسری مرتبہ اس درخواست کی سماعت کے لیے نیا بینچ بنا جس کی سربراہی جسٹس علی باقر نجفی نے کی جبکہ ان کے ساتھ جسٹس اسجد گھرال شامل تھے۔ تاہم کیس کی سماعت شروع ہوتے ہی جسٹس اسجد گھرال نے اپنے آپ کو اس کیس سے الگ کر لیا۔
تین ججز نے انکار اور تین بینچ ٹوٹنے کے بعد مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ سے اپنی درخواست واپس لے لی تھی اب انہوں نے چار مہینے گزرنے کے بعد دوبارہ درخواست دائر کی ہے جس کو ایک مرتبہ پھر ججز نے سننے سے انکار کر دیا ہے۔

شیئر: