Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا اور چین کے درمیان سرحد پر کشیدگی، امن دوطرفہ تعلقات کے لیے اہم ہے: انڈیا

انڈین دفاعی حکام نے کشیدگی کی نئی اطلاعات کو مسترد کردیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ متنازع سرحد پر امن اور استحکام دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے انتہائی اہم ہے۔
 یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہمالیہ کے ایک دور افتادہ علاقے میں انڈیا اور چینی فوجیوں کے درمیان نئی کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈیا کی وزارتِ خارجہ کا یہ بیان ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں اس معاملے پر دوسرا بیان ہے۔ انڈیا اور چین 2020 میں سرحدی جھڑپوں کے بعد تعلقات میں آنے والی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں بھی سامنے آئی ہے جب نئی دہلی میں 12 اور 13 ستمبر کو ’برکس‘ سربراہی اجلاس ہونے والا ہے، جس میں چینی صدر شی جن پنگ کی شرکت متوقع ہے۔
انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کو معمول کی بریفنگ کے دوران کہا کہ ’انڈیا نے ہمیشہ چینی حکام کے ساتھ بات چیت میں واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں سے متعلق معاملات کو انتہائی سنجیدہ سمجھتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سرحدی صورتحال دونوں ممالک کے وسیع تر دوطرفہ تعلقات کی صورتحال پر اثر انداز ہوگی۔‘
یہ بیان انڈیا اور چین کی فوجوں کے درمیان نئی مبینہ کشیدگی سے متعلق سوال کے جواب میں دیا گیا۔ چین کی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

اروناچل پردیش میں فوجی آمنے سامنے آنے کی رپورٹ

انڈین ویب سائٹ ’دی پرنٹ‘ نے انڈیا کی وزارتِ خارجہ کی بریفنگ کے بعد رپورٹ کیا کہ جولائی کے اواخر میں انڈین اور چینی فوج کے گشت کرنے والے دستے اروناچل پردیش کے ضلع اپر سوبنسری میں واقع دور افتادہ سرحدی گاؤں تکسنگ کے قریب آمنے سامنے آگئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ مشرقی ہمالیہ میں انڈین کنٹرول والے علاقے کے تقریباً آڑھائی کلومیٹر اندر پیش آیا، جس کے بعد چینی اہلکار واپس چلے گئے۔
تاہم رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اگست کے آغاز میں چینی اہلکار دوبارہ اس علاقے میں آئے اور وہاں دو خیمے بھی نصب کیے۔

انڈیا نے نئی کشیدگی کی اطلاعات مسترد کردیں

دوسری جانب انڈین دفاعی حکام نے نئی کشیدگی سے متعلق ان اطلاعات کو مسترد کردیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق علاقے کی ایک مقامی رہائشی تنظیم کی جانب سے 26 جولائی کو حکام کو بھیجے گئے خط میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چینی اہلکار سرحدی علاقے میں انڈین زمین کے نئے اور اہم مقامات پر اپنی موجودگی تیزی سے بڑھا رہے ہیں۔

انڈین اور چینی فوج کے گشت کرنے والے دستے اروناچل پردیش میں آمنے سامنے آئے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

تاہم اروناچل پردیش میں انڈین فوج کے ترجمان نے ان دعوؤں کو بے بنیاد اور غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں۔

2020 کی جھڑپوں سے تعلقات شدید متاثر ہوئے تھے

انڈیا اور چین کے درمیان تقریباً تین ہزار 488 کلومیٹر طویل متنازع سرحد ہے، جہاں دونوں ممالک کے گشت کرنے والے فوجہ دستے کا آمنے سامنے آنا غیر معمولی نہیں، تاہم ایسا اکثر نہیں ہوتا۔
2020 میں مغربی ہمالیہ میں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 20 انڈین فوجی اور چار چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد نئی دہلی اور بیجنگ کے تعلقات شدید متاثر ہوئے۔
اس کے بعد دونوں ممالک نے سرحد پر دسیوں ہزار فوجی اور بھاری عسکری سازوسامان تعینات کردیا تھا۔
تاہم 2024 میں چینی صدر شی جن پنگ اور انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے سرحدی تعطل ختم کرنے اور کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
اب اروناچل پردیش میں انڈین اور چینی فوجیوں کی مبینہ نقل و حرکت سے متعلق نئی اطلاعات کے بعد ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان سرحدی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔

شیئر: