Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’شیخ رشید 92 میں بھی کنوارے تھے اور آج بھی کنوارے ہیں‘

پاکستانی ٹیم ایک مرتبہ ٹی 20 ورلڈ کپ جیت چکی ہے۔ (فائل فوٹو: ٹوئٹڑ)
امکانات اور توقعات کے ساتھ ٹی 20 ورلڈ کپ کا سفر شروع کرنے والی پاکستانی ٹیم ٹورنامنٹ کے درمیان میں پہنچ کر اگر مگر کا شکار ہوئی اور خدشہ پیدا ہوا کہ کسی بھی وقت واپسی کا ٹکٹ کٹنے لگا ہے تو سوشل ٹائم لائنز پر کچھ ایسے جملے نمایاں ہوئے جو عام گفتگو کا تو حصے رہتے ہیں لیکن کرکٹ ڈکشنری سے انہیں کوئی خاص ربط و ضبط نہیں تھا۔
گزشتہ چند دنوں میں شاید ہی کوئی دن خالی گیا ہو جب ’92 میں ایسا ہوا تھا‘ اور ’قدرت کا نظام‘ ٹائم لائنز پر نہ سجے ہوں۔
گرین شرٹس ورلڈ کپ میں رہیں گے یا نہیں؟ کے جواب نے ہر لحظہ نیا رنگ اختیار کرنا شروع کیا تو کہیں مایوسی کے بادل چھائے اور کہیں امید کے دیے ٹمٹمائے، اسی دوران جانے کون 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ اور حالیہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کو درپیش صورتحال کی مشترکات ڈھونڈ لایا۔
1992 کے ورلڈ کپ کا افتتاحی میچ ہارنا، انڈین ٹیم سے گروپ مرحلے کے میچ میں شکست، گروپ سٹیج کے آخری تینوں میچوں میں کامیابی، سیمی فائنل کھیلنے کے لیے دوسری ٹیموں کے ہارنے جیتنے پر انحصار اور پھر سیمی فائنل میں ٹورنامنٹ کی کامیاب ترین ٹیم نیوزی لینڈ سے مقابلے، فائنل میچ کے لیے وہی میدان اور وہی حریف تک کا موازنہ کرکٹ کے میدان تک محدود رہا، مگر اس کے بعد بات باہر نکلی اور کبھی سیاست کے میدان تو کبھی سماجیات کے خارزار میں بھٹکتی رہی۔
کسی کو یاد آیا کہ 1992 میں بھی پاکستان میں مسلم لیگ نواز کی حکومت تھی اور اب بھی ایسا ہی ہے تو کوئی یہ نکتہ نکال لایا کہ اس وقت بھی ’شیخ رشید کنوارے تھے اور آج بھی ایسے ہی ہیں۔‘

1992 میں شیخ رشید کیسے تھے اور اب کیسے ہیں کا ذکر چھڑا تو پاکستانی سیاست میں مختلف پارٹیوں کا حصہ رہنے والے سابق وفاقی وزیر نے بھی ٹوئٹر پر اپنی ایک پرانی تصویر شیئر کی تاہم اس کے ساتھ کچھ لکھا نہیں۔

پاکستان اور انگلیڈ کی ٹیمیں ٹی 20 ورلڈ کپ کے فائنل میں آج میلبرن میں مدمقابل ہوں گی۔ دونوں ٹیمیں تیسری مرتبہ ٹورنامنٹ کا فائنل کھیل رہی ہیں۔

ٹی 20 ورلڈ کپ کے فائنل کا پرجوش ماحول کرکٹرز اور کرکٹ فینز کو ہی نہیں بلکہ سفارتکار اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کو بھی پوری طرح قابو کیے ہوئے ہے۔
پاکستان میں انگلینڈ کے سابق ہائی کمشنر نے ایک ٹویٹ میں ’انگلستان‘ لکھی شرٹ پہنچے ہوئے ایک فرد کی تصویر شیئر کی تو اسے ’برا دن‘ قرار دیا۔

اس سے قبل ایک مرتبہ انگلینڈ اور ایک مرتبہ پاکستان نے ٹی 20 ورلڈ کپ فائنل جیتا ہے۔
میلبرن میں اتوار کو پورا دن بارش اور پیر کو بھی بارش کی پیش گوئی کی گئی تھی تاہم گزشتہ شب کی بارش کے بعد شہر کا آسمان گہرے بادلوں سے صاف بتایا جا رہا ہے۔
فائنل میچ کے دوران ہلکی بارش کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے موسم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلے پھوار پڑنے کا امکان 95 فیصد تھا جو اب کم ہو کر 46 فیصد رہ گیا ہے، البتہ رات نو سے 11 بجے کے دوران بارش کا امکان 53 فیصد سے زائد ہو گا۔ مجموعی طور پر یہ میلبرن میں ’سنی ڈے‘ ہے۔
پاکستان اور انگلینڈ کے فائنل مقابلے کے لیے ٹاس 12:22 منٹ پر ہو گا جس کے بعد موسیقی کا شو اور آتشبازی کی جائے گی۔

شیئر: