Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صرف خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کا فائدہ نہیں ہوگا: بیرسٹر سیف

خیبر پختونخوا کے وزیراعلٰی کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ ’وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کو تحلیل کرنا ضروری ہے۔‘
اردو نیوز سے خصوصی گفتگو میں بیرسٹر سیف نے بتایا کہ ’26 نومبر کو عمران خان نے دونوں اسمبلیوں کو چھوڑنے کا اعلان کیا تھا لیکن اگر کسی بھی وجہ سے ایک بھی اسمبلی تحلیل نہیں ہوتی تو اس کے مطلوبہ اثرات نہیں ہوں گے۔‘
خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آرہی۔ اب اگر پنجاب اسمبلی کسی بھی قانونی شق یا اپوزیشن کی مخالفت کی وجہ سے تحلیل نہیں ہوتی تو سوال بنتا ہے کہ کیا پھر خیبر پختونخوا اسمبلی توڑنے سے ہم اپنے مطالبات منواسکیں گے؟‘
بیرسٹر سیف نے کہا کہ ’یہ پارٹی کے نہیں میرے سوالات اور تحفظات ہیں۔ ’کیا ایک اسمبلی کو تحلیل کرنے سے جلد انتخابات کا مطالبہ تسلیم کیا جاسکے گا؟‘
عمران خان کی  پوری جدوجہد جلد انتخابات کے لیے ہے تاکہ شفاف انتخابات کے بعد نئی حکومت آسکے۔
بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ پارٹی اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں کمیٹی بنائی جائے گی جو صورتحال کا جائزہ لے کر سفارشات عمران خان کے سامنے پیش کرے گی۔
ہوسکتا ہے عمران خان کہے کہ صرف کے پی اسمبلی تحلیل ہو یا دونوں اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ ہو لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ اس پہلو پر سوچنا چاہیے ۔‘
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک ڈپٹی سپیکر سمیت پانچ اراکین اسمبلی استعفٰی وزیراعلی محمود خان کو ارسال کرچکے ہیں تاہم اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق انہیں فی الحال کسی رکن اسمبلی کا استعفٰی موصول نہیں ہوا۔

شیئر: