Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سائفر آڈیو لیک، عمران خان کو ایف آئی اے میں طلبی کے نوٹس معطل

جسٹس اسجد جاوید نے کہا کہ پہلے تو آڈیو کا فرانزک ہونا چاہیے تھا کہ اصل ہے بھی یا نہیں۔ فائل فوٹو
لاہور ہائیکورٹ نے سائفر آڈیو لیک معاملے پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو ایف آئی اے کی جانب سے طلبی کے لیے جاری کیے گئے نوٹس معطل کر دیے ہیں۔
منگل کو جسٹس اسجد جاوید گرال نے عمران خان کی درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو جواب دینے کے لیے نوٹس جاری کیا۔
عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کہ وزیراعظم کے دفتر سے آڈیو کا لیک ہونا افسوسناک ہے۔ ’ایف آئی اے نے انٹرنیٹ سے آڈیو اٹھا کر خود سے تفتیش شروع کر دی۔
جسٹس اسجد جاوید نے کہا کہ پہلے تو آڈیو کا فرانزک ہونا چاہیے تھا کہ اصل ہے بھی یا نہیں۔ ’کیا اس بات کی انکوائری کی گئی کہ سائفر والی آڈیو کیسے لیک ہوئی۔‘
عدالت نے پوچھا کہ ’جن لوگوں کا وہاں کنٹرول تھا کیا اُن سے یہ تفتیش ہوئی کہ آڈیو کیسے لیگ ہوئی۔ دیگر لوگوں سے بھی پوچھ گچھ کی گئی یا صرف سابق وزیراعظم کو ٹارگٹ کیا گیا۔‘
عمران خان کے وکیل نے بتایا کہ شاہ محمود قریشی سمیت دیگر افراد کے خلاف بھی انکوائری شروع کی گئی ہے۔
وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر کے اُن کا مؤقف سن لیا جائے اس کے بعد نوٹس کی معطلی کی درخواست پر فیصلہ کیا جائے۔
عدالت نے عمران خان کو طلبی کے لیے جاری کیے گئے نوٹس معطل کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

شیئر: