منظوری کی اس سمری میں صوبہ سندھ کے ساتھ بجٹ کا موازنہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’پنجاب کے ترقیاتی منصوبے خاص طور پر ریسکیو 1122، صحت، تعلیم، خوراک اور زراعت وغیرہ کے محکمے کسی بھی صوبے سے بڑے ہیں اور زیادہ کام کر رہے ہیں۔‘
کمیٹی کے میٹنگ آف منٹس میں کہا گیا ہے کہ ’پنجاب کے محکموں کے ترقیاتی کاموں کی تشہیر کا جو بجٹ رکھا گیا ہے وہ دوسرے صوبوں سے کم ہے۔ اس لیے ڈئریکٹوریٹ جنرل آف پبلک ریلیشنز کی سفارش کو مانتے ہوئے تشہیری مہم کا بجٹ 8.7 ارب روپے کیا جاتا ہے۔‘
اس خصوصی سپلیمنٹری بجٹ گرانٹ کی منظوری اس سال یعنی 2022-23 کے بجٹ میں رکھی گئی ہے۔
پنجاب میں اس وقت تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ ترجمان پنجاب حکومت سے جب اس حوالے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس موضوع پر کسی بھی قسم کا موقف دینے سے گریز کیا۔
خصوصی سپلیمنٹری بجٹ گرانٹ کی منظوری اس سال یعنی 2022-23 کے بجٹ میں رکھی گئی ہے۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف نے تشہیری مہم کے لئے خطیر بجٹ رکھنے پر ہمیشہ سابقہ حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتی آئی ہے۔
صوبے کی اپوزیشن جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے تشہیری مہم کے لیے بجٹ کی منظوری کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضی نے کہا ہے کہ ’چوہدری پرویز الہی نے ہمیشہ بے دریغ اشتہاری مہم چلائی ہے اور ہمیشہ عوام کا پیسہ استعمال کیا ہے۔ اب تحریک انصاف بھی ان کی ہم پلہ بن چکی ہے۔ اور دونوں نہ صرف مل کے کھا رہے ہیں اب یہ عوامی پیسوں پر اگلے انتخابات کی تیاری کر رہےہیں۔‘