Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خروج وعودہ کی خلاف ورزی پر پابندی کا اطلاق خلیجی ممالک پر بھی ہوگا؟

خلاف ورزی کے مرتکب پرخرج ولم یعد اصطلاح نافذ کردی جاتی ہے(فائل فوٹو خلیج ٹائمز)
سعودی عرب میں غیر ملکیوں کے لیے اقامہ اور رہائشی قوانین واضح ہیں جن پرعمل کرنا سب کے لیے لازمی ہے۔ آجر اور اجیر کے حوالے سے بھی قوانین موجود ہیں ان سے آگاہی ضروری ہے۔
  اقامے میں نام کی درستگی کے بارے میں ایک شخص نے دریافت کیا ’ نیے ویزے پرآیا ہوں۔ اقامہ جاری ہوگیا مگراقامے میں نام غلط درج ہوا ہے۔ کیا ابشر کے ذریعے درست کرانا ممکن ہے۔؟ 
سوال کا جواب دیتے ہوئے جوازات کا کہنا تھا کہ ’اقامے میں نام درست کرانے کے لیے لازمی ہے کہ غیرملکی کارکن کا کفیل یا اس کی جانب سے مقررکردہ نمائندہ ہی جوازات کے دفتر سے رجوع کرے‘۔ 
خیال رہے جوازات کے قانون کے مطابق مملکت میں ورک پرمٹ میں مقیم غیرملکی اپنے اقامے یا ورک پرمٹ کے اجرا یا تجدید کے حوالے سے جوازات کے دفتر میں براہ راست رجوع نہیں کرسکتے۔
اس کےلیے لازمی ہے کہ کفیل یا اس کا مقرر کردہ نمائندہ ہی جوازات کے دفتر سے وقت حاصل کرے اورمقررہ وقت پرجوازات سے رجوع کرے 
جہاں تک ابشر کے ذریعے نام درستگی کا سوال ہے تو یہ سہولت تاحال ابشریا مقیم پلیٹ فارم پرمہیا نہیں کی گئی۔ نام درستگی کےلیے کارکن کا اصل پاسپورٹ اور اس کی فوٹو کاپی کے ساتھ اقامے کا اصلی کارڈ جوازات کے اہلکار کو پیش کرنا ہوگا۔
علاوہ ازیں جوازات کی جانب سے فراہم کردہ مخصوص فارم بھی بھرنے کے بعد دستاویزات کے ہمراہ جمع کرانا پڑتا ہے۔ 
اقامے میں نام درست کرانے کے بعد جوازات کا اہلکار دوسرا کارڈ پرنٹ کرتا ہے ۔اس لیے بہتر ہے کہ نئے اقامہ کارڈ میں تبدیل ہونے والے نام کو دیکھ لیا جائے تاکہ نام دوبارہ بھی غلط لکھا گیا ہوتو اسے اسی وقت درست کرایاجائے بصورت دیگر دوبارہ ان ہی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ 
خروج وعودہ کی خلاف ورزی کے حوالے سے ایک شخص نے دریافت کیا ’معلوم یہ کرنا ہے کہ جوغیرملکی خروج وعودہ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں ان پر 3 برس کی پابندی صرف سعودی عرب کےلیے ہے یا خلیجی ممالک جانے کے لیے بھی؟۔ 
سوال کے جواب میں جوازات کا کہنا تھا کہ’ خروج وعودہ قانون کی خلاف ورزی پرعائد کی جانے والی پابندی صرف سعودی عرب کےلیے ہے‘۔ 

خروج وعودہ میں توسیع کے لیے بینک کے سداد آپشن میں دوسروسز ہیں(فائل فوٹو روئٹرز)

ایسے افراد جو خروج وعودہ پرجانے کے بعد مقررہ وقت پر واپس نہیں آتے انہیں مملکت میں تین برس کےلیے بلیک لسٹ کردیاجاتا ہے ایسے افراد صرف اپنے سابق کفیل کی جانب سے جاری کردہ نئے ویزے پرہی سعودی عرب آسکتے ہیں۔ 
 ضوابط کے حوالے سے سوال پرجوازات کا کہنا تھا کہ ’خروج وعودہ کی خلاف ورزی جن پررجسٹرڈ ہوتی ہے وہ صرف سعودی عرب کےلیے ہی تین برس کےلیے بلیک لسٹ کیے جاتے ہیں۔ یعنی خروج وعودہ کی خلاف ورزی کے مرتکب غیرملکی جن پرخرج ولم یعد اصطلاح نافذ کردی جاتی ہے وہ ممنوعہ 3 برس کی مدت کے دوران خلیجی ممالک جاسکتے ہیں‘۔   
 جوازات کے ٹوئٹرپرایک شخص نے دریافت کیا ’اہلیہ اوربیٹی خروج وعودہ پرگئے ہوئے ہیں جو ختم ہونے کے قریب ہے خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کا طریقہ کارکیا ہے؟ 
 تارکین کے اہل خانہ کے خروج عودہ کی مدت میں توسیع کے طریقہ کارکی وضاحت کرتے ہوئے جوازات کا کہنا تھا کہ ’ایسے افراد جو مملکت سے باہرہیں ان کے خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کے لیے سب سے پہلے مقررہ ماہ کی فیس ادا کی جائے اس کے بعد غیرملکی کارکن اپنے ابشرپلیٹ فارم سے خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کی کارروائی مکمل کرے گا‘۔ 
واضح رہے خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کے لیے بینک کے سداد آپشن میں دوسروسز ہیں جن میں ’بیرون مملکت خروج وعودہ کی توسیع ‘ کی سروس کا انتخاب کیاجائے کیونکہ دوسری سروس ان لوگوں کےلیے ہوتی ہے جو مملکت میں ہوتے ہیں اورخروج وعودہ جاری کرانا چاہتے ہیں۔ 

شیئر: