Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عراق کی خمیری روٹی ’الصمون‘ کی مقبولیت کا راز کیا ہے؟

ریستوران ’الصمون‘ ابو سجاد بیکری سے خریدتے ہیں (فوٹو: الاقتصادیہ)
بغداد کے مرکزی علاقے میں واقع ابو سجاد بیکری کی سپیشل خمیری روٹی (الصمون) کی مقبولیت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ 
الاقتصادیہ کے مطابق الصمون خمیری روٹی کی ایک قسم ہے اس کی شکل الماس جیسی  ہوتی ہے۔ جس طرح فرانس میں’بیکڈ روٹی‘ بڑی پسند کی جاتی ہے اور وہ ہر دسترخوان کی زینت ہوتی ہے۔ اسی طرح عراق کے ہر دسترخوان پر الصمون ضرور پیش کی جاتی ہے۔ 

بیکری میں ہر 45 سیکنڈ میں ایک روٹی تیار ہوتی ہے (فوٹو: نبض)

الصمون پتھر کے روایتی تندوروں میں پکائی جاتی ہے۔ یہ روٹی عراق میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی روٹیوں میں سے ایک ہے۔ اسے عام طور پر مختلف قسم کے کھانوں حمص، کباب اور شاورما کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ 
الصمون روٹی کی تیاری آسان ہے مشکل نہیں۔ یہ مشرق وسطٰی اور یورپی ممالک میں بھی آسانی سے پکائی جا سکتی ہے۔ 
ابو سجاد بیکری 2005 سے صارفین کو الصمون پیش کر رہی ہے۔ اس بیکری میں ہر 45 سیکنڈ میں ایک روٹی تیار ہوتی ہے اور روزانہ 10 ہزار روٹیاں فروخت ہوتی ہیں۔ جمعے کے دن ان کی تعداد بڑھ کر 12 ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔ 

الصمون کی شکل الماس جیسی ہوتی ہے (فوٹو: نبض)

بیکری کے مالک کے بیٹے سجاد کا کہنا ہے کہ ’وہ 50 کلو گرام آٹا گوندھتے ہے اس میں خمیر اور پانی شامل کیا جاتا ہے پھر مشین کے ذریعے تینوں چیزوں کو مکس کرکے گوندھا جاتا ہے۔ کچھ دیر کے لیے اس مکسڈ مواد کو ایسے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس کے بعد بڑی تیزی سے نوے سے 100 گرام تک وزن کے پیڑے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان کی شکل الماس جیسی ہوتی ہے۔ آخر میں انہیں تندور میں سینکا جاتا ہے۔‘ 
ابو سجاد بیکری میں ہر وقت رش رہتا ہے۔ یہ الرشید سٹریٹ پر واقع ہے۔ جہاں 19 ویں صدی کے مکانات آج بھی موجود ہیں۔ اب یہ رفتہ رفتہ بوسیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ بیکری کے اطراف میں بہت سارے ریستوران ہیں وہ بھی اپنے گاہکوں کے لیے الصمون ابو سجاد بیکری سے ہی خریدتے ہیں۔
 
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے اردو نیوز گروپ جوائن کریں

شیئر: