ایرانی سفارتخانہ کی آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریائی جہاز پر حملے کی تردید
کوریا کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور آگ بجھا دی گئی (فوٹو: روئٹرز)
ایران نے اس بات کی تردید کی کہ اس کی مسلح افواج اس حملے میں ملوث تھیں جس نے اس ہفتے آبنائے ہرمز میں ایک جنوبی کوریائی جہاز کو نشانہ بنایا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سیول میں سفارتخانے نے کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران مسلح افواج کی آبنائے ہرمز میں کوریائی جہاز کو نقصان پہنچانے والے واقعے میں کسی بھی قسم کی شمولیت کے الزامات کو سختی سے مسترد اور مکمل طور پر رد کرتا ہے۔‘
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جب امریکہ نے آبنائے کو کھولنے کے لیے اپنا آپریشن شروع کیا تو ایران نے ایک کوریائی آپریٹڈ جہاز اور دیگر اہداف پر فائرنگ کی۔
پانامہ کے جھنڈے والا کارگو جہاز، جسے جنوبی کوریائی شپنگ کمپنی ایچ ایم ایم چلا رہی تھی، خالی اور لنگر انداز تھا جب دھماکہ ہوا اور آگ بھڑکی۔
کوریائی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور آگ بجھا دی گئی۔ جہاز کو نقصان کے جائزے اور مرمت کے لیے قریبی بندرگاہ پر کھینچ کر لے جایا جائے گا۔
ایچ ایم ایم کے ترجمان نے کہا کہ 24 رکنی عملہ 35 ہزار ٹن وزنی جنرل کارگو جہاز پر موجود رہا۔
