Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تحریک انصاف نے جیل بھرو تحریک روک دی، الیکشن مہم شروع کرنے کا اعلان

پی ٹی آئی نے جیل بھرو تحریک 23 فروری سے شروع کر رکھی تھی: فائل فوٹو اے ایف پی
پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ملک میں جاری سیاسی بحران نے نئی سمت اختیار کر لی ہے۔
تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد بدھ کے روز جیل بھرو تحریک کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک ٹویٹ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے اعلان کیا کہ ’ہم جیل بھرو تحریک معطل کر رہے ہیں اور پنجاب، خیبر پختونخوا میں الیکشن مہم شروع کرنے جا رہے ہیں۔‘
جیل بھرو تحریک کے لیے پی ٹی آئی کے فوکل پرسن سینیٹر اعجاز چوہدری نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم آج کے دن کے جیل بھرو تحریک میں گرفتاریاں نہیں دیں گے کیونکہ سپریم کورٹ نےایک تاریخی فیصلہ دے دیا ہے اور تحریک انصاف کا جو موقف ہے جس کے لیے جیل بھرو تحریک شروع کی گئی تھی وہ پورا ہوا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ جیل بھرو تحریک انتخابات کی تاریخ لینے کے لیے شروع کی گئی تھی۔
دوسری طرف تحریک انصاف کے نظربند رہنماؤں نے اپنی رہائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔
بدھ کے روز تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کی رہائی کے لیے ان کی اہلیہ کی درخواست پر سماعت ہوئی جس میں لاہور کی ضلعی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ اسد عمر کی نظربندی امن وامان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے کی گئی ہے۔
کیس کی مزید سماعت 10 مارچ تک ملتوی کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی نے جیل بھرو تحریک 23 فروری سے شروع کر رکھی تھی اور اس وقت پارٹی وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی، جنرل سیکریٹری اس عمر، سینیٹر ولید اقبال سمیت نو رہنما اور متعدد کارکن گرفتاریاں دے چکے ہیں۔
اس سوال کہ جیل بھرو تحریک کے دوران گرفتار ہونے والے رہنماؤں کی رہائی کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے؟ کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان آج اس کے حوالے سے حتمی فیصلہ کریں گے اور جیل بھرو تحریک روکنے پر گرفتار رہنماؤں کی رہائی کے لیے قانونی راستہ اپنایا جائے گا۔‘

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے الیکشن مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے: فوٹو اردو نیوز

دوسری جانب مسلم لیگ ن کی ترجمان عظمٰی بخاری نے پی ٹی آئی کی  جیل بھرو تحریک روکنے پر تنقید کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’جس برے طریقے سے جیل بھرو تحریک ناکام ہوئی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ یہ لوگ صرف بہانہ ڈھونڈ رہے تھے کہ کیسے اس کال کو واپس لیا جائے اور اب جیسے ہی بہانہ ہاتھ لگا تو ساتھ ہی میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ یہ ایک فراڈ کال تھی اور یو ٹرن کی ماسٹر جماعت نے اس پر بھی فوری یو ٹرن لے لیا۔‘
تحریک انصاف نے جیل بھرو تحریک کے حوالے سے ملک کے تمام بڑے شہروں میں مرحلہ وار گرفتاریاں دینے کے اعلان کیا تھا۔ ابھی تک لاہور راولپنڈی اور ساہیوال میں گرفتاریاں دی گئی ہیں جبکہ پشاور میں گرفتاریاں نہیں دی گئیں۔ اسی طرح فیصل آباد میں گرفتاریوں کی کال سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد واپس لے لی گئی ہے۔

شیئر: