Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سمندری طوفان، ’جن رضاکاروں نے سیلاب میں امدادی کارروائیاں کیں ان سے رابطہ کیا‘

وفاقی وزیر ماحولیات شیری رحمان نے سمندری طوفان ‘بایپرجوائے‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’ بظاہر طوفان کا رُخ شمال مشرق کی طرف ہے، سندھ کے ساحلی علاقے ممکنہ طور پر طوفان سے متاثر ہو سکتے ہیں۔‘
منگل کو چیئرمین این ڈی ایم اے کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’کراچی، حیدرآباد، سانگھڑ، ٹنڈوالہ یار میں بارشوں کا امکان ہے۔ کیٹی بندر سے لوگوں کا انخلا مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ ماہی گیروں کو بار بار وارننگز دی گئی ہیں۔‘
چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ’کراچی اور دیگر شہری علاقوں میں تیز آندھی، ہواؤں اور طوفان کا خدشہ رہے گا۔ گذشتہ سیلاب میں جن رضاکاروں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا ان سے دوبارہ رابطہ کیا گیا ہے۔‘
بحیرہ عرب میں بننے والا طوفان بائپر جوائے تیزی سے پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے ساحلی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کا رخ معمولی تبدیل ہوا ہے جس کے بعد کراچی کسی حد تک محفوظ ہو رہا ہے، البتہ سندھ کے دیگر ساحلی علاقے جن میں ٹھٹہ، سجاول اور بدین شامل ہے اب بھی طوفان کی زد میں ہیں۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ تازہ تفصیلات کے مطابق سائیکلون بائپر جوائے اس وقت کراچی سے 470 کلومیٹر جنوب میں ہے، جبکہ ٹھٹہ سے 460 کلو میٹر جنوب میں موجود ہے اور تیزی سے آگے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
چیف میٹرولوجسٹ کراچی سردار سرفراز نے اُردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں کیٹی بندر کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہونے کا امکان ہے۔ سمندری طوفان کے پاکستانی ساحل کے قریب ہونے کے اثرات مختلف شہروں میں نظر آنے لگے ہیں۔ پیرکی رات سے تیز ہواؤں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جبکہ آج سے سندھ کے مختلف شہروں میں ہلکی اور تیز بارش کا امکان ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ طوفان کا پاکستان کے علاقے کیٹی بندر اور انڈیا کے علاقے گجرات سے ٹکرانے کا امکان ہے۔ اس وقت سائیکلون بپر جوائے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں سندھ کے مختلف شہروں کا موسم تبدیل ہو گیا ہے۔
ان کے مطابق پیر کی رات سے چلنے والی ہواؤں میں مزید تیزی دیکھی جا رہی ہے جو ایک دو روز میں مزید بڑھ جائے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ بائپر جوائے سائیکلون نے اپنے رخ میں معمولی سی تبدیلی کی ہے جس کے بعد سندھ کے شہر کراچی کے لیے کسی حد تک طوفان کے خطرات کم ہوئے ہیں، لیکن سمندر میں تیز لہریں اب بھی موجود ہیں اور یہ سلسلہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ تیز ہواؤں کے ساتھ شہر میں بارش بھی متوقع ہے۔
دوسری جانب حکومت سندھ کی جانب سے ساحلی پٹی پر آباد افراد کی منتقلی کے عمل کو تیز کر دیا گیا ہے۔ سندھ کے علاقے سجاول سے تیزی سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق تقریباً 10 ہزار سے زائد خاندان ہیں جنہیں فوری طور پرمنتقل کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں انتظامیہ کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ لوگ اپنے علاقے چھوڑنے سے انکار کر رہے ہیں۔
سجاول شہر سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی شبیر سومرو کے مطابق سندھ کے شہر ٹھٹہ، سجاول اور بدین سمیت دیگر علاقوں میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کچھ عرصہ قبل ہی واپس اپنے علاقوں میں آئے ہیں۔ اوراب ایک بار پھر یہاں منتقل کیا جا رہا ہے جس میں انتظامیہ کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کہ کیٹی بندر میں اب بھی دو سو زائد ایسے ماہی گیر گھرانے موجود ہیں جو نہیں چاہتے کے اپنے علاقے چھوڑ کر جائیں۔ البتہ انتظامیہ نے کوشش کی ہے کہ ماہی گیروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔

انتظامیہ کا موقف ہے کہ کسی بھی شہری کو طوفانی صورتحال میں متاثرہ علاقوں میں نہیں رہنے دیا جائے گا (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں زیادہ تر ماہی گیر آباد ہیں جو کئی سالوں سے سمندر میں ہی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بھی اپنے بچاؤ کے انتظامات کیے ہیں۔ لیکن انتظامیہ کا موقف ہے کہ کسی بھی شہری کو طوفانی صورتحال میں متاثرہ علاقوں میں نہیں رہنے دیا جائے گا۔
وزیر اعلٰی سندھ کے ترجمان رشید چنا نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سمندری طوفان کے پیش نظر ساحلی پٹی کے شہروں سے لوگوں کا انخلا رات بھر جاری رہا ہے۔ اب تک کیٹی بندر کی 13 ہزار آبادی خطرے میں ہے جس میں سے تین ہزار کو رات بھر منتقل کیا گیا ہے۔ گھوڑا باڑی کی پانچ ہزار آبادی کو خطرہ ہے جس میں سے 100 لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
شہید فاضل راہو کی چار ہزار آبادی کو طوفان کا خطرہ ہے جس میں سے تین ہزار افراد کو منتقل کیا گیا ہے۔ بدین کی 2500 آبادی کو خطرہ ہے جس میں سے 540 ابھی تک محفوظ مقام پر منتقل ہو چکے ہیں۔ شاہ بندر کی پانچ ہزار آبادی سمندری طوفان کی زد میں آنے کا خطرہ ہے اس لیے 90 لوگوں کو رات کو منتقل کیا گیا ہے۔ جاتی کی 10 ہزار آبادی کو طوفان کا خطرہ ہے۔ اس لیے رات بھر 100 لوگوں کو منتقل کیا گیا۔ کھاروچھان کی 13 سو کی آبادی کو خطرہ ہے جس میں سے چھ لوگ رات کو منتقل کیے گئے۔
ابھی تک  40 ہزار آٹھ سو میں سے چھ ہزار 836 لوگ منتقل ہو چکے ہیں اور باقی لوگوں کی منتقلی کا سلسلہ دن بھر جاری رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ اس آپریشن کو خود مانیٹر کر رہے ہیں۔
گذشتہ روز پاکستان کے محکمہ موسمیات نے کہا تھا کہ سمندری طوفان ’بائپرجوائے‘ کراچی کے جنوب میں 600 کلومیٹر اور ٹھٹھہ کے جنوب میں 580 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
پیر کی رات کو محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری ہونے والی ایڈوائزری کے مطابق ’یہ طوفان 14 جون کی صبح تک مزید شمال کی طرف بڑھے گا اور اسی دن ملک کے بالائی علاقوں میں مغربی ہوائیں داخل ہونے کا بھی امکان ہے۔‘
’جس کے باعث 13 سے 17 جون کے دوران ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر، میرپور خاص اور عمرکوٹ میں 100-80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آندھی/تیز ہوائیں چلنے اور گرج چمک کے ساتھ شدید موسلا دھار/طوفانی بارش کا امکان ہے۔‘

ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک 25 سے زیادہ علاقوں سے تین ہزار سے زائد افراد کو منتقل کیا جا چکا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ایڈوائزری میں کہا گیا تھا کہ ’14 سے 18 جون تک ملک کے مختلف علاقوں میں بھی آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔‘
محکمہ موسمیات نے انتباہ کیا تھا کہ 14 سے 17 جون تک تیز ہواؤں کے باعث کمزور ڈھانچے (کچے مکانات) بشمول سولر پینلز وغیرہ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
لینڈفال کے دوران کیٹی بندر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بلند طوفانی لہروں، نشیبی علاقے زیرآب آنے اور ساحلی علاقوں میں سیلاب کے خطرات ہیں۔ ماہی گیروں کو بھی 17 جون تک کھلے سمندر میں جانے سے منع کیا گیا ہے۔

شیئر: