پاکستان اور افغانستان کے درمیان لڑائی میں شدت، ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر
پاکستان اور افغانستان کی افواج کے درمیان جمعے کو سرحد کے درجنوں مقامات پر شدید فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوا، جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق ایک ہفتے سے جاری اس تنازع کے باعث ایک لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ ’گذشتہ ہفتے پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے بعد سے افغانستان میں 56 شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 24 بچے بھی شامل ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’رواں برس کے آغاز سے اب تک افغانستان میں شہری ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 69 تک پہنچ چکی ہے جبکہ 141 افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘
وولکر ترک نے پاکستان کی فوج اور افغانستان کی عبوری سکیورٹی فورسز پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر لڑائی بند کریں اور ان لاکھوں افراد کی مدد کو ترجیح دیں جو انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جنوبی ایشیا کے یہ دونوں ممالک کئی برسوں کی بدترین جھڑپوں میں مصروف ہیں اور مفاہمت کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ اس صورتحال نے خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا دیا ہے، جہاں پہلے ہی ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باعث کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ایران ایک ایسا ملک ہے جس کی سرحدیں افغانستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ ملتی ہیں۔
لڑائی کے دوران پاکستان کی جانب سے افغان طالبان حکومت کی تنصیبات پر فضائی حملے بھی کیے گئے، جن میں افغان دارالحکومت کابل کے شمال میں واقع بگرام ایئر بیس بھی شامل ہے۔
رمضان کے دوران گھروں پر گولہ باری
افغانستان کی وزارتِ دفاع کے مطابق طالبان فورسز نے 2600 کلومیٹر طویل سرحد کے مختلف حصوں میں پاکستانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، متعدد چوکیاں تباہ کیں اور ایک ڈرون بھی مار گرایا۔
دوسری جانب پاکستانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے زمینی اور فضائی کارروائیاں کرتے ہوئے افغان فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں طالبان کا مضبوط گڑھ قندھار بھی شامل ہے جہاں تنظیم کی مرکزی قیادت موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں کئی افغان سرحدی چوکیاں تباہ کر دی گئیں۔
عینی شاہدین کے مطابق جمعے کو کابل میں درجنوں افراد پاکستان کے مبینہ حملوں کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوئے اور پاکستان مخالف نعرے لگائے۔ افغان خبر رساں ادارے کے مطابق صوبہ لغمان میں بھی ایک بڑے اجتماع نے پاکستان کے حالیہ حملوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔
سرحدی علاقوں کے رہائشیوں نے بتایا کہ شام ڈھلتے ہی دونوں جانب کی افواج کے درمیان شدید گولہ باری شروع ہو جاتی ہے، جس کے باعث سرحدی قصبوں میں واقع مکانات براہِ راست زد میں آ جاتے ہیں۔ یہ صورتحال خاص طور پر رمضان کے مقدس مہینے میں اس وقت خطرناک ہو جاتی ہے جب خاندان افطار کے لیے بیٹھے ہوتے ہیں۔
افغانستان کے ساتھ مرکزی سرحدی گزرگاہ طورخم کے قریب رہنے والے ایک پاکستانی مزدور حاجی شاہ ایران نے بتایا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ علاقہ چھوڑ کر دوستوں کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’جب ہم صبح گھروں سے نکلتے ہیں تو ہمارے اوپر گولے برسنے لگتے ہیں۔ گولہ باری سے ہمارے گھر متاثر ہوئے ہیں اور ہمارا سامان اب بھی وہیں پڑا ہے۔‘
جمعے کو قصبہ تقریباً سنسان تھا اور سڑکوں پر چند ہی گاڑیاں نظر آ رہی تھیں۔ لڑائی کے باعث بعض گھروں کو نقصان پہنچا جبکہ سرحد کے پار سیاہ دھوئیں کے بادل بھی دیکھے گئے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے کہا ہے کہ سرحدی جھڑپوں کے باعث صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور اندازہ ہے کہ افغانستان میں تقریباً ایک لاکھ 15 ہزار جبکہ پاکستان میں تین ہزار افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔
’بات چیت کا کوئی سوال نہیں‘
متعدد ممالک نے جنگ بندی کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے، جن میں حال ہی میں ترکیہ بھی شامل ہے، تاہم ایران سے متعلق تنازع کے باعث خلیجی ممالک کی توجہ اس بحران سے ہٹ گئی ہے۔
پاکستانی حکومت کے ترجمان مشرف زیدی نے کہا ہے کہ تنازع کے خاتمے کے لیے اس وقت کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے۔
انہوں نے سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’بات کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ نہ کوئی مکالمہ ہو گا اور نہ ہی مذاکرات۔ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کو ختم ہونا ہو گا۔ یہ افغانستان کا مسئلہ ہے جبکہ پاکستان کی ذمہ داری اپنے شہریوں کا تحفظ ہے۔‘
یہ تنازع گذشتہ ہفتے اس وقت شروع ہوا جب پاکستان نے افغانستان کے اندر فضائی حملے کیے، جن کے بارے میں اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ان کا ہدف شدت پسندوں کے ٹھکانے تھے۔ افغانستان نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا اعلان کیا۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ کابل پاکستان میں حملے کرنے والے شدت پسندوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے، تاہم طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان میں شدت پسندی ایک داخلی مسئلہ ہے۔
طالبان کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں ایک فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ تاہم روئٹرز اس حملے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا جبکہ پاکستانی فوج کی جانب سے بھی اس حوالے سے کسی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔
دونوں فریق بارہا دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچایا اور سینکڑوں مخالف فوجیوں کو ہلاک کیا، تاہم اس کے کوئی واضح شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق لڑائی شروع ہونے کے بعد اب تک 56 شہری ہلاک اور 128 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ 110 شہری مارے گئے ہیں۔
پاکستان نے ان دونوں اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا ہدف صرف شدت پسند اور ان کے معاون ڈھانچے ہوتے ہیں۔
