Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سویڈن میں قرآن کی بے حرمتی، پاکستان او آئی سی کی ایما پر اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کرے گا

یورپی یونین نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کریں (فوٹو: اے پی)
سویڈن میں قرآن کی بے حرمتی کے بعد پاکستان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بحث کے لیے مذہبی منافرت کے خلاف ایک قرارداد کا مسودہ تیار کیا ہے، تاہم کچھ مغربی ممالک نے اس کی مخالفت کی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان کی طرف سے قرارداد کا مسودہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی ایما پر منگل کو پیش کیا جائے گا۔ او آئی سی نے قرآن نذر آتش کرنے کو ’جارحانہ اور اشتعال انگیزی‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا اس سے نفرت انگیزی کو ہوا ملتی ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
مسودے میں ’یورپی اور دیگر ممالک میں قرآن کو نذر آتش کرنے کی مذمت‘ کی گئی ہے، لیکن کچھ مغربی ممالک کے سفارت کاروں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے بجائے مذہبی علامت کا تحفظ قرار دیا ہے۔
ایک سفارت کار نے مسودے کے حوالے سے کہا کہ ’ہم اس کی تحریر کو پسند نہیں کرتے۔ انسانی حقوق کا تعلق مذاہب سے نہیں بلکہ انفرادی ہوتا ہے۔‘
انسانی حقوق کونسل میں او آئی سی ممبر ممالک کی تعداد زیادہ ہے جس پر مغربی ممالک کو تشویش ہے۔ انسانی حقوق کونسل کے 47 ممبر ممالک میں سے 19 او آئی سی کے ممبر ہیں۔ اس کے علاؤہ چین سمیت دیگر ممالک بھی اس قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔
تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان او آئی سی کے تمام ممبر ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو پائے گا۔
جنیوا میں یونیورسل رائٹس گروپ کے ڈائریکٹر مارک لائمن کا کہنا ہے کہ ’اگر قرارداد پاس ہوتی ہے، جو لگتا ہے کہ ہو جائے گی، تو اس تاثر کو تقویت ملے گی کہ کونسل پلٹا کھا گئی ہے اور مغرب آزادی اظہار اور نفرت کے اظہار کے درمیان تفریق کی بحث ہار گیا ہے، اور کیا مذاہب کے بھی حقوق ہوتے ہیں۔‘
یورپی یونین نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کریں۔
یورپی یونین کے ایک سفارت کار نے کہا کہ ’اقوام متحدہ میں کئی صدیوں سے مذاہب کی توہین ایک مشکل موضوع رہا ہے۔ آزادی اظہار اور نفرت انگیزی کے درمیان ایک لکیر کھینچنا ایک پیچیدہ سوال ہے۔‘

شیئر: