وزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ سکیم کے چوتھے مرحلے کے تحت حکومت نے طلبہ میں تقسیم کے لیے ایک لاکھ لیپ ٹاپ خریدے ہیں۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کی مجموعی لاگت 16 ارب 80 کروڑ 12 لاکھ روپے رکھی گئی تھی۔ اس رقم سے لیپ ٹاپ خریدنے کے ساتھ ساتھ ان کی درآمد اور دیگر متعلقہ اخراجات بھی پورے کیے گئے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس منصوبے میں ایک بڑا حصہ غیرملکی زرمبادلہ کی صورت میں رکھا گیا تھا کیونکہ لیپ ٹاپ بیرون ملک سے منگوائے جاتے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق قریباً 15 ارب 16 کروڑ روپے غیرملکی ادائیگیوں کے لیے مختص کیے گئے تھے۔
مزید پڑھیں
اردو نیوز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق لیپ ٹاپ خریدنے کا مجموعی معاہدہ قریباً 37.7 ملین امریکی ڈالر میں طے پایا۔ اس کے تحت فی لیپ ٹاپ کی قیمت 376.96 امریکی ڈالر مقرر کی گئی، جس میں ٹیکسز بھی شامل ہیں۔
پاکستانی روپے میں اس رقم کا اندازہ لگایا جائے تو ایک لیپ ٹاپ کی قیمت تقریباً ایک لاکھ روپے سے کچھ زیادہ بنتی ہے، تاہم اصل رقم ڈالر میں طے کی گئی تھی۔
دستاویزات کے مطابق لیپ ٹاپ کی فراہمی کا ٹھیکہ ایم/ایس اے آئی سٹون ٹونگ فانگ جوائنٹ وینچر اور ایم/ایس ایچ این آر پاکستان کو دیا گیا۔
حکام کے مطابق اس کمپنی نے تکنیکی معیار اور قیمت دونوں کے لحاظ سے دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں بہتر پیش کش دی جس کے بعد اسے کامیاب بولی دہندہ قرار دیا گیا۔
سرکاری ریکارڈ میں بتایا گیا ہے کہ لیپ ٹاپ خریدنے کے لیے پاکستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کے قواعد کے مطابق کھلا ٹینڈر جاری کیا گیا تاکہ خریداری کا عمل شفاف رکھا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے 4 اگست 2024 کو قومی اخبارات اور سرکاری ویب سائٹس پر ٹینڈر کا اشتہار دیا گیا تھا۔
اس اشتہار کے بعد مختلف کمپنیوں نے بولی کے عمل میں حصہ لیا۔ دستاویزات کے مطابق مجموعی طور پر سات کمپنیوں نے اس ٹینڈر میں شرکت کی۔
ان میں سرکاری اور نجی شعبے کے کئی بڑے ادارے بھی شامل تھے۔ بولی میں حصہ لینے والے نمایاں اداروں میں نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی)، جاز اور ڈی ڈبلیو پی ٹیکنالوجیز جیسے نام شامل تھے۔

خریداری کے عمل میں ایسا طریقہ کار استعمال کیا گیا جس میں کمپنیوں کی بولیوں کو دو مرحلوں میں جانچا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کمپنی کے پاس مطلوبہ تجربہ اور تکنیکی صلاحیت موجود ہے یا نہیں اور وہ مطلوبہ معیار کے مطابق لیپ ٹاپ فراہم کر سکتی ہے یا نہیں۔
اس کے بعد دوسرے مرحلے میں مالی پیش کش یعنی قیمت کو دیکھا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کو کوالٹی اینڈ کاسٹ بیسڈ سلیکشن کہا جاتا ہے جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے مناسب قیمت پر خریداری کی جائے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں کچھ کمپنیوں کو قواعد پورے نہ کرنے کی وجہ سے مقابلے سے باہر کر دیا گیا۔
مثال کے طور پر ایک کمپنی مولر اینڈ فپس کو اس لیے نااہل قرار دیا گیا کیونکہ اس نے اپنی بولی سرکاری الیکٹرانک سسٹم کے ذریعے جمع نہیں کرائی تھی۔
اسی طرح الفاروق ٹریڈرز کو بھی نااہل قرار دیا گیا کیونکہ اس نے مطلوبہ بِڈ سکیورٹی کی مکمل رقم جمع نہیں کرائی تھی۔ ایک اور کمپنی واہ انڈسٹریز ضروری تکنیکی شرائط پوری نہ کرنے کی وجہ سے مقابلے سے باہر ہو گئی۔
ان مراحل کے بعد چار کمپنیوں کی بولیاں تکنیکی طور پر قابلِ قبول قرار دی گئیں۔ ان کمپنیوں کی پیش کشوں کا مزید تفصیلی جائزہ لیا گیا۔













