پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کریں گے جب تک اُن کی جانب سے حملہ نہ ہو: ایران
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران کی جانب سے خطے کے پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں پر معذرت کر لی ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایرانی صدر نے کہا کہ تہران ان حملوں کو روک دے گا اور انہوں نے بتایا کہ یہ حملے فوجی رینکس میں ’مس کمیونیکیشن‘ کی وجہ سے ہوئے۔
ایرانی صدر کا یہ بیان سنیچر کی صبح بحرین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر متعدد بار ہونے والے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’میں اُن ہمسایہ ممالک سے معذرت خواہ ہوں جن پر ایران نے حملہ کیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ عبوری قیادت کی کونسل نے اس فیصلے کی منظوری دی ہے کہ پڑوسی ممالک پر حملے عارضی طور پر معطل کیے جائیں گے جب تک کہ ان ممالک کی جانب سے ایران پر کوئی حملہ نہ ہو۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’عبوری قیادت کی کونسل نے گذشتہ روز اس بات پر اتفاق کیا کہ پڑوسی ممالک پر اُس وقت تک مزید حملے نہیں کیے جائیں گے نہ ہی میزائل داغے جائیں گے جب تک ان ممالک کی جانب سے ایران پر حملہ نہیں کیا جاتا۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کی جانب سے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ ایک ’ایسا خواب ہے جسے انہیں اپنی قبر تک لے جانا چاہیے۔‘
