Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عمران خان نے ایسا جرم کیا جس کی سزا ان کو ملنی چاہیے: وزیر داخلہ

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان سائفر اپنی تحویل میں رکھ کر جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ فوٹو: پی آئی ڈی
پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے پاکستان کے تعلقات کو مجروح کرتے ہوئے ملکی معیشت کو خراب کیا اور اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لیے سائفر کی بنیاد پر ڈرامہ اور ڈھونگ رچایا۔ 
بدھ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ’عمران خان نے ایسا جرم کیا جس کی سزا ان کو ملنی چاہیے، عمران خان کے ساتھ کھیلنے والے کھلاڑیوں نے اپنے جرائم کا اعتراف کر لیا ہے اور اعظم خان کا بیان اس سے پہلے آنے والی آڈیو کی تصدیق کرتا ہے۔‘ 
وزیرداخلہ نے کہا کہ ’اعظم خان نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ شاہ محمود قریشی اس منصوبہ بندی میں پوری طرح شریک جرم ہیں، اس ڈرامے کے ذریعے پاکستان میں نفرت پھیلانے اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے سازش رچائی گئی۔‘ 
رانا ثنا االلہ کا کہنا تھا کہ اعظم خان نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ انھوں نے عمران خان کو خفیہ دستاویز کو پبلک کرنے سے منع کیا لیکن انھوں نے اپوزیشن کے خلاف اس سائفر کو استعمال کیا۔ 
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عمران خان سائفر کو اپنی تحویل میں رکھ کر جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں اور وقت تک ہوتے رہیں گے جب تک وہ خفیہ دستاویز واپس جمع نہیں کرواتے۔
اعظم خان سے منسوب کسی بیان کو نہیں مانوں گا: عمران خان  
دوسری جانب سابق وزیراعظم عمران خان نے مقامی میڈیا پر اپنے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان سے منسوب نشر ہونے والے بیان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔  
اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافیوں کی جانب سے اعظم خان کے مبینہ بیان پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا ’اعظم خان ایماندار آدمی ہیں۔ جب تک ان کے منہ سے نہیں سنوں گا ان سے منسوب کسی بیان کو نہیں مانوں گا۔‘   
بدھ کو مقامی میڈیا پر اعظم خان سے متعلق خبریں نشر ہو رہی تھیں کہ سائفر تحقیقات کیس میں 164 کے تحت اعظم خان کا بیان ریکارڈ کیا گیا ہے جس میں انہوں نے سائفر کو ’ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔‘   
اعظم خان کے مبینہ بیان کے مطابق سابق وزیراعظم نے تمام حقائق کو چھپا کر ’سائفر کا جھوٹا اور بے بنیاد بیانیہ بنایا اور تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے لیے سائفر کو بیرونی سازش کا رنگ دیا۔‘ 

عمران خان نے اعظم خان سے منسوب بیان کو تسلیم کرنے انکار کیا ہے

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اپنے بیان میں اعظم خان نے کہا کہ ’سائفر کے معاملے پر تمام کابینہ ارکان کو ملوث کیا گیا اور تمام لوگوں کو بتایا گیا کہ سائفر کو کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سائفر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سائفر کو صرف سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہ ڈرامہ پری پلان تھا۔‘   
اعظم خان نے مبینہ طور پر کہا کہ ’عمران خان نے 9 مارچ کو مجھ سے سائفر لے لیا اور بعد میں کہا کہ وہ کھو گیا ہے۔‘   
سوشل میڈیا پر نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد اور اعظم خان کا موازنہ کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اعظم خان نےخود کو بچانے کے لیے عمران خان کے خلاف بیان دے دیا جبکہ فواد حسن فواد نے وعدہ معاف گواہ بننے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم عمران خان نے اعظم خان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور انھیں ایماندار آدمی قرار دیا ہے۔     

عمران خان کا دعویٰ تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکہ کا ہاتھ ہے۔ (سکرین گریب)

سائفر معاملہ کیا تھا؟    
اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان نےاس وقت کے امریکہ میں پاکستانی سفیر کے مراسلے کو بنیاد بنا کر اپنی حکومت کے خلاف امریکی سازش کا بیانیہ بنایا تھا جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکہ کا ہاتھ ہے۔   
سائفر سے متعلق عمران خان اور ان کے سابق سیکرٹری اعظم خان کی ایک آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس میں عمران خان کو کہتے سنا گیا تھا کہ ’اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکہ کا نام نہیں لینا، بس صرف یہ کھیلنا ہے۔‘ 
وفاقی کابینہ نے اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کر دی تھیں۔  
اعظم خان پی ٹی آئی کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری تھے اور وہ وزیراعظم کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے۔  

شیئر: