سعودی عرب کا 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹ کا وعدہ: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب
سعودی عرب کا 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹ کا وعدہ: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب
بدھ 15 اپریل 2026 8:23
پاکستان کے وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹ کا وعدہ کیا ہے، جس کی ادائیگی آئندہ ہفتے متوقع ہے۔
بدھ کو واشنگٹن ڈی سی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ موجودہ 5 ارب ڈالر کا سعودی ڈپازٹ اب سالانہ رول اوور کے انتظام کے تحت نہیں رہے گا بلکہ اسے طویل مدت کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ آج بدھ کو سعودی عرب کے سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔
بدھ کو وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے سرکاری دورے پر آج اسلام آباد سے جدہ کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں۔
وزیرِ خزانہ نے 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹ کا اعلان واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک، آئی ایم ایف سپرنگ میٹنگز 2026 کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اور پاکستان کے لیے سعودی مالی امداد اور حکومت کی بیرونی فنانسنگ حکمتِ عملی کے بارے میں اہم تفصیلات شیئر کیں۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی بیرونی فنانسنگ کی منصوبہ بندی واضح ہے اور اسے ذمہ داری اور نظم و ضبط کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن میں اپنی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے گورنر سٹیٹ بینک اور امریکہ میں پاکستانی سفیر کے ساتھ سعودی وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان سے تفصیلی ملاقات کی۔
انہوں نے سعودی قیادت، بالخصوص ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان اور نائب وزیرِ خزانہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی مسلسل حمایت اور قریبی تعاون نے اس امدادی پیکج کو ممکن بنایا۔
وزیر خزانہ نے نے حکومت کے اس عزم کو دہرایا کہ ذخائر کو مارکیٹ کی ذمہ داریوں اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت برقرار رکھا جائے گا (فوٹو: وزارت خزانہ)
انہوں نے کہا کہ یہ امداد پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات کے لیے نہایت اہم وقت پر آئی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے میں مددگار ہوگی۔
انہوں نے حکومت کے اس عزم کو دہرایا کہ ذخائر کو مارکیٹ کی ذمہ داریوں اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت برقرار رکھا جائے گا، جس میں مالی سال کے اختتام تک تقریباً 18 ارب ڈالر کے ذخائر حاصل کرنے کا ہدف شامل ہے، جو تقریباً 3.3 ماہ کی درآمدی ضروریات کے برابر ہے۔
وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ ہفتے 1.4 ارب ڈالر کا یوروبانڈ کامیابی سے واپس کیا اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت تمام آئندہ بیرونی ذمہ داریوں اور ادائیگیوں کو وقت پر پورا کرے گی۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اس وقت اعتماد اور جذبات نہایت اہم ہیں۔ پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، سرمایہ کاروں اور واشنگٹن میں ملاقات کرنے والے ہم منصبوں کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری پاکستان کے حالیہ سفارتی کردار کو بھی تسلیم کر رہی ہے جس نے دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کو ممکن بنایا۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی وسیع تر بیرونی فنانسنگ ایجنڈا کو آگے بڑھا رہا ہے (فوٹو: وزارت خزانہ)
انہوں نے کہا کہ یہ عالمی پذیرائی اور سعودی عرب کی بروقت مالی امداد پاکستان کو آگے بڑھنے کے لیے اہم اعتماد اور رفتار فراہم کرتی ہے، چاہے وہ معیشت ہو یا بیرونی کھاتہ۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی وسیع تر بیرونی فنانسنگ ایجنڈا کو آگے بڑھا رہا ہے، جس میں حال ہی میں اعلان کردہ گلوبل میڈیم-ٹرم نوٹ پروگرام اور پانڈا بانڈ اجرا شامل ہے، تاکہ فنڈنگ کے ذرائع کو متنوع بنایا جا سکے اور مارکیٹ تک رسائی کو مضبوط کیا جا سکے۔
وزیرِ خزانہ نے آخر میں حکومت کے عزم کو دہرایا کہ میکرو اکنامک استحکام، بیرونی ذمہ داریوں کی تکمیل، اصلاحات کا تسلسل اور دوطرفہ و کثیرالجہتی شراکت داروں کے ساتھ مستقل روابط برقرار رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دورے کے اختتام پر میڈیا کے ساتھ مزید تفصیلی گفتگو ہوگی۔