Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب میں ہنرمند افراد کے لیے عالمی روزگار کا ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کرانے کی تیاری

دوسرے مرحلے میں اسے مکمل عالمی افرادی نقل و حرکت کے نظام میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پنجاب کے ہنرمند افراد کو عالمی روزگار سے منسلک کرنے کے لیے ایک جامع اور مربوط ڈیجیٹل نظام متعارف کروانے مزید پیش رفت ہوئی ہے جس کے تحت صوبائی حکومت ایک ایسا پلیٹ فارم قائم کرنے پر غور کر رہی ہے جہاں امیدواروں کی پروفائلنگ، اسناد کی تصدیق اور بین الاقوامی روزگار تک رسائی ایک ہی جگہ ممکن ہو گی۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ہنرمند افرادی قوت کو منظم اور مستند انداز میں عالمی منڈی کے سامنے پیش کرنا ہے تاکہ پاکستانی کارکنوں کی ساکھ اور مواقع دونوں میں اضافہ ہو سکے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق ایک نجی کمپنی نے حکومت کو اس ڈیجٹیلائزیشن کی تجویز دی ہے، تاہم اس منصوبے کو مرحلہ وار نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
پہلے مرحلے میں سعودی عرب کے توانائی اور خدماتی شعبے کے لیے اس نظام کا آغاز کیا جائے گا، جس کے لیے ایک مرتبہ قریباً ساڑھے آٹھ ہزار یورو لاگت آئے گی اور فی امیدوار 14 یورو فیس تجویز کی گئی ہے۔
دوسرے مرحلے میں اسے مکمل عالمی افرادی نقل و حرکت کے نظام میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے لیے قریباً 30 ہزار یورو ابتدائی لاگت اور پانچ ہزار یورو ماہانہ اخراجات کا تخمینہ دیا گیا ہے۔
اس مجوزہ پلیٹ فارم میں ہنر مند افراد کی ڈیجیٹل پروفائلنگ، اسناد کی باضابطہ تصدیق، ایک مرکزی ٹیلنٹ پول، موبائل ایپلی کیشن اور عالمی آجرین کے لیے خصوصی پورٹل شامل ہوں گے۔ اس کے ذریعے امیدواروں کی مہارتوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق مستند بنایا جائے گا اور انہیں براہِ راست بیرونِ ملک کمپنیوں سے جوڑنے کا عمل ممکن بنایا جائے گا، جس سے غیر شفاف بھرتی اور درمیانیوں کے کردار میں کمی کی توقع ہے۔
پاکستان میں ہنرمند افراد کو بیرونِ ملک روزگار فراہم کرنے کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ سنہ 1970 کی دہائی سے خلیجی ممالک پاکستانی افرادی قوت کے لیے اہم منڈیاں رہے ہیں، تاہم اس دوران جعلی اسناد، مہارتوں کی عدم مطابقت اور غیر منظم بھرتی جیسے مسائل بھی سامنے آتے رہے۔
حالیہ برسوں کے دوران ان مسائل کے حل کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے، جن میں قومی پیشہ ورانہ و فنی تربیتی کمیشن کے تحت مہارتوں کی تصدیق کے پروگرام، اور پنجاب میں ہنر مندی کے فروغ کے اداروں کی جانب سے بیرونِ ملک روزگار کے لیے تربیت یافتہ افراد کی تیاری شامل ہے۔

پاکستان میں ہنرمند افراد کو بیرونِ ملک روزگار فراہم کرنے کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک جانے والے افراد کے لیے آسان مالی معاونت کے پروگرام بھی متعارف کروائے گئے، جنہوں نے اس شعبے کو بتدریج منظم کرنے میں کردار ادا کیا۔

دنیا میں ایسا نظام کہاں کہاں رائج ہے؟

عالمی سطح پر ترقی پذیر ممالک نے ہنر مند افرادی قوت کو عالمی منڈی سے جوڑنے کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام اپنائے ہیں، جو اس منصوبے کے لیے عملی نمونہ فراہم کرتے ہیں۔
افرادی قوت سے وابستہ ماہر محمد عرفان بتاتے ہیں کہ ’انڈیا میں حکومت کے زیرِ انتظام ایک مرکزی نظام قائم ہے جسے ای مائیگریٹ کہا جاتا ہے جس کے ذریعے بیرونِ ملک جانے والے کارکنوں کی آن لائن رجسٹریشن، اسناد کی تصدیق، آجرین کی جانچ پڑتال اور دستاویزات کے محفوظ اندراج کا عمل ایک ہی پلیٹ فارم پر انجام دیا جاتا ہے۔ اس نظام میں شکایات کے ازالے کا باقاعدہ طریقہ کار بھی شامل ہے، جس کے نتیجے میں غیر قانونی بھرتی اور استحصال کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے اور بھرتی کا عمل زیادہ شفاف اور تیز ہوا ہے۔‘
محمد عرفان بتاتے ہیں کہ ’اسی طرح بنگلہ دیش نے بھی حالیہ برسوں میں ایک ڈیجیٹل بیرونِ ملک روزگار پلیٹ فارم متعارف کروایا ہے جسے اوورسیز ایمپلائمنٹ لیٹ فارم کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے محفوظ ہجرت، منصفانہ بھرتی اور مہارتوں کی درست ہم آہنگی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ اس نظام کی تیاری میں بین الاقوامی اداروں کا تعاون حاصل رہا، اور اسے ایک مرکزی دروازے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جہاں سے ہنر مند افراد عالمی مواقع تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔‘

سنہ 1970 کی دہائی سے خلیجی ممالک پاکستانی افرادی قوت کے لیے اہم منڈیاں رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اسی طرح فلپائن کا ماڈل اس حوالے سے سب سے زیادہ ترقی یافتہ تصور کیا جاتا ہے ’یہ نظام اووسیز فلیپینو ورکرز اور اوورسیز ورکرز ویلفئیر ایڈمنسٹریشن جیسے اداروں پر مشتمل ہے جہاں بیرونِ ملک کام کرنے والے کارکنوں کے لیے مکمل ڈیجیٹل نظام موجود ہے۔‘
’اس میں موبائل ایپلی کیشنز، اسناد کی تصدیق، آجرین کے لیے پورٹل اور کارکنوں کی فلاح و بہبود کے لیے علیحدہ نظام شامل ہیں۔ فلپائن نے اسی مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے اپنے لاکھوں شہریوں کو محفوظ اور منظم انداز میں عالمی منڈی تک رسائی فراہم کی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف انفرادی آمدنی میں اضافہ ہوا بلکہ قومی معیشت کو بھی مضبوط سہارا ملا۔‘
بین الاقوامی ادارے بھی اس طرح کے ڈیجیٹل نظاموں کو شفاف اور منصفانہ بھرتی کے لیے مؤثر قرار دیتے ہیں، جبکہ سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک خود بھی توانائی اور تیزی سے ترقی کرنے والے دیگر شعبوں میں غیرملکی ہنرمند کارکنوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید ڈیجیٹل تصدیقی نظام متعارف کروا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پنجاب حکومت کا مجوزہ منصوبہ انہی عالمی رجحانات سے ہم آہنگ ہے، اور اگر اسے مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو یہ صوبے کو ہنرمند افرادی قوت کے ایک اہم مرکز میں تبدیل کر سکتا ہے، خاص طور پر سعودی عرب جیسے ممالک میں، جہاں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، پاکستانی ہنرمندوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

شیئر: