چین ایران کو اسلحہ نہیں دے گا، شی جن پنگ کی یقین دہانی موصول: ڈونلڈ ٹرمپ
صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان سربراہی ملاقات پہلے مارچ میں طے تھی (فائل فوٹو: گیٹی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین نے اپنے قریبی اتحادی ایران کو اسلحہ فراہم نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے اور انہیں اس حوالے سے چینی صدر شی جن پنگ کی ذاتی یقین دہانی بھی موصول ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’چینی صدر نے ایران کو ہتھیار نہ بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔ وہ مجھے چند ہفتوں میں چین پہنچنے پر بھرپور انداز میں خوش آمدید کہیں گے۔‘
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ بیان انہوں نے 14 اور 15 مئی کو بیجنگ میں مجوزہ امریکہ اور چین کی سربراہی ملاقات کے حوالے سے دیا۔
فاکس بزنس کی میزبان ماریہ بارٹیرومو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’شی جن پنگ نے بنیادی طور پر اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ وہ ایران کو اسلحہ فراہم نہیں کریں گے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں نے سُنا تھا کہ چین ایران کو ہتھیار دے رہا ہے، آپ یہ ہر جگہ دیکھ رہے ہیں، تو میں نے انہیں ایک خط لکھا کہ ایسا نہ کریں، اور انہوں نے جواب میں لکھا کہ وہ ایسا نہیں کر رہے۔‘
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتوں کے درمیان پہلے سے پیچیدہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کے درمیان سربراہی ملاقات پہلے مارچ میں طے تھی، تاہم امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا۔
دوسری جانب چین نے منگل کو آبنائے ہُرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پر امریکہ کے طرزِ عمل کو ’خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا، جبکہ شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ میں امن کے فروغ کے لیے ’تعمیری کردار‘ ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’چین بہت خوش ہے کہ میں آبنائے ہُرمز کو مستقل طور پر کھول رہا ہوں۔ میں یہ ان کے لیے بھی کر رہا ہوں اور دنیا کے لیے بھی۔‘
چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار بھی ہے۔
امریکی صدر سے ایف بی آئی پر مبینہ چینی سائبر حملے کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔ انہوں نے اس کی براہِ راست تصدیق نہیں کی، تاہم یہ کہا کہ ’ہم بھی ان کے ساتھ ایسا کرتے ہیں، وہ بھی ہمارے ساتھ ایسا کرتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’چین، چین ہے۔ وہ کبھی آسان نہیں ہوتے، لیکن ہم چین کے ساتھ اچھا کام کر رہے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے خود کو چین کے حوالے سے ’سب سے سخت مؤقف رکھنے والا شخص‘ بھی قرار دیا۔
