Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مذاکرات کسی گروہ یا جتھے سے نہیں صرف افغان حکومت سے ہوں گے: آرمی چیف

آرمی چیف نے کہا کہ ’افغان مہاجرین کو پاکستان میں پاکستان کے قوانین کے مطابق رہنا ہو گا۔‘ (فوٹو: آئی ایس پی آر)
پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے افغان حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ اور بھی ہو سکتا ہے؟‘
پیر کو پشاور میں گرینڈ جرگہ میں چیف آف آرمی سٹاف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’افغان مہاجرین کو پاکستان میں پاکستان کے قوانین کے مطابق رہنا ہو گا۔‘
جنرل عاصم منیر نے کہا کہ ’اگر مذکرات ہوئے تو وہ صرف پاکستان اور عبوری کی حکومت کے مابین ہوں گے۔ یہ خوارج کون سی شریعت لانا چاہتے ہیں؟‘
آرمی چیف نے کہا کہ ’فوج اور سکیورٹی کے تمام ادارے اور پاکستان کے عوام ایک ہیں۔ جو لوگ امن کو برباد کرنا چاہتے ہیں وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔‘
جنرل عاصم منیر نے کہا کہ ’حکومتِ پاکستان کی منظوری کے بعد قبائل کے انضمام کے مسائل کے حل کے لیے ایک سیکریٹیریٹ قائم کیا جائے گا۔ ہم قبائلی عوام کی معاشی ترقی کے حوالے سے ترقیاتی منصوبوں میں ان کی شرکت کو یقینی بنائیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر نئے ضم شدہ اضلاع میں 81 ارب روپے کی مالیت کے ترقیاتی اور فلاح وبہبود کے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر نئے ضم شدہ اضلاع میں پولیس کے 43 منصوبوں کو سات ارب روپوں کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا اور 54 زیر تعمیر منصوبوں کے جلد مکمل ہونے میں تمام تر  مدد فراہم کی جائے گی۔‘

شیئر: