Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بین الاقوامی مقابلہ حسن قرات، سعودی عرب کی مہمان نوازی کی تعریف

مقابلے کے ابتدائی دور میں جتینے والے فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں بین الاقوامی شاہ عبدالعزیز مقابلہ برائے حفظ، حسن قرات اور تفسیر قرآن میں حصہ لینے والوں نے مملکت کی مہمان نوازی کی تعریف کی ہے۔
مقابلے کا اہتمام مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں سعودی وزارت اسلامی امور و دعوت و رہنمائی کررہی ہے۔ 
ایس پی اے کے مطابق مقابلے کے ابتدائی دور میں جتینے والے فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گے۔ 
چھ ستمبر تک جاری رہنے والے اس مقابلے میں 117 ملکوں کے 166 امیدوار شریک ہیں۔ مجموعی انعامات  40 لاکھ ریال کے ہیں۔ 
مقابلہ کے شرکا نے اس بین الاقوامی مقابلہ کے لیے کوالیفائی کرنے پر خوشی کا اظہار کیا اور سعودی قیادت کی  فراخدلی، مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا۔
مقابلے میں شریک روس سے تعلق رکھنے والے خالد  بن علی زندگی میں پہلی مرتبہ عمرے کی ادائیگی کے دوران خانہ کعبہ کو دیکھ کر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔


اس سال اس مقابلے میں مالدیپ سے دو افراد حصہ لے رہے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)

خالد  بن علی کا خواب پورا ہونے کے ساتھ انہیں اس مقابلے میں حصہ لینے اور مسجد الحرام میں آنے کا موقع ملا۔
برکینا فاسو سے عبدالجبار صالح نے کہا کہ ’یہ مقابلہ قرآن پاک پر مملکت کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے جبکہ جرمنی سے تعلق رکھنے والے معا ذ خالد نے مقابلے میں اپنے ملک کی نمائندکی گرنے پر فخر کا اظہار کیا۔
وزیر اسلامی امور ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ کا کہنا ہے کہ’ حفظ، حسن قرات اور تفسیر کے بین الاقوامی مقابلے سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں قرآن کریم سے تعلق بڑھے گا۔ حفظ قرآن، حسن قرات اور تفسیر کے حوالے سے ایکد دوسرے پر سبقت لے جانے کا جذبہ فروغ پائے گا‘۔
مالدیپ کے وزیر مملکت برائے اسلامی امور الیاس جمال نے عرب نیوز کو بتایا ’ یہ مقابلہ اب تک کے سب سے بڑے بین الاقوامی مقابلوں میں سے ایک ہے‘۔
انہوں نے بتایا ’اس سال اس مقابلے میں مالدیپ سے دو افراد حصہ لے رہے ہیں‘۔
تیونس کی اسلامی فکر کے ادارے کے سربراہ ڈاکٹر خالد ترودی نے کہا’ سعودی عرب نے کئی دہائیوں سے قرآن پاک کو حفظ کرنے ، اس کی تلاوت  اور تفسیر کو اہمیت دی ہے جس کی وجہ سے قرآن کی تعلیم عام دنیا بھر میں عام ہوگئی ہے‘۔

شیئر: