Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شہروں کی نگرانی کا پروگرام، طالبان کی چینی کمپنی کے حکام سے ملاقات

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ واشنگٹن طالبان کے ساتھ ’شراکت داری‘ نہیں کر رہا ہے (فوٹو: روئٹرز)
افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان مختلف شہروں کے لیے بڑے پیمانے پر کیمروں کے ذریعے نگرانی کا نیٹ ورک بنا رہے ہیں جس میں امریکیوں کے 2021 کے انخلا سے قبل تیار کیے گئے منصوبے کو دوبارہ تیار کرنا شامل ہو سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ترجمان نے کہا کہ طالبان انتظامیہ کی توجہ سکیورٹی کی بحالی اور داعش پر قابو پانے پر ہے۔ انتظامیہ نے ممکنہ تعاون کے بارے میں چینی ٹیلی کام سازوسامان بنانے والی کمپنی ہواوے سے بھی مشورہ کیا ہے۔
تاہم کچھ تجزیہ کار اس پروگرام کی فنڈنگ کے حوالے سے مالی مشکلات کی شکار افغان حکومت کی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس پروگرام کو مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے بتایا کہ نئی سکیورٹی حکمت عملی کے تحت کابل اور دیگر جگہوں کے اہم پوائنٹس پر توجہ دی جائے گی۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے مکمل عمل درآمد میں چار برس لگیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’اس وقت ہم کابل کے سکیورٹی کے نقشے پر کام کر رہے ہیں، جسے سکیورٹی ماہرین مکمل کر رہے ہیں اور اس پر کافی وقت لگ رہا ہے۔ ہمارے پاس پہلے سے ہی دو نقشے موجود ہیں، ایک جو امریکہ نے پچھلی حکومت کے لیے بنایا تھا اور دوسرا ترکیہ نے۔‘
انہوں نے تفصیل نہیں بتائی کہ ترکیہ والا منصوبہ کب بنایا گیا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ واشنگٹن طالبان کے ساتھ ’شراکت داری‘ نہیں کر رہا ہے اور ’طالبان پر واضح کر دیا ہے کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کریں۔‘

ہواوے نے ستمبر میں روئٹرز کو بتایا تھا کہ ملاقات کے دوران ’کسی منصوبے پر بات نہیں کی گئی۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

عبدالمتین قانی نے کہا کہ طالبان نے اگست میں ہواوے کے ساتھ ممکنہ نیٹ ورک کے بارے میں گفتگو کی تھی، لیکن کوئی معاہدہ طے نہیں پایا تھا۔
بلومبرگ نیوز نے اگست میں اطلاع دی تھی کہ ہواوے نے طالبان کے ساتھ نگرانی کے نظام کو نصب کرنے کے معاہدے کے بارے میں ’زبانی معاہدہ‘ کیا ہے۔
ہواوے نے ستمبر میں روئٹرز کو بتایا تھا کہ ملاقات کے دوران ’کسی منصوبے پر بات نہیں کی گئی۔‘
چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ وہ کسی مخصوص بات چیت سے آگاہ نہیں ہیں، لیکن انہوں نے کہا کہ ’چین نے ہمیشہ افغانستان میں امن اور تعمیرنو کے عمل کی حمایت کی ہے اور متعلقہ عملی تعاون کے لیے چینی کاروباری اداروں کی حمایت کی ہے۔‘

شیئر: