جاپان میں چپس کے رنگ برنگے پیکٹ ایران جنگ کی وجہ سے بے رنگ کیوں؟
کمپنی نے الزام لگایا کہ ’مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں کچھ خام مال کی فراہمی میں عدم استحکام ہے۔‘ (فوٹو: آر ٹی ایل)
جاپان میں آلو کے چپس بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ایران جنگ سے جڑی قلت کے باعث دباؤ کا شکار ہے اور اپنے مشہور نارنجی اور پیلے رنگ کے پیکٹس کو سیاہ اور سفید میں بدل رہی ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جاپان میں ’کالبی‘ نامی کمپنی اپنے مزیدار آلو چپس کے لیے مشہور ہے جن میں سمندری گھاس نمک سے لے کر سویا ساس اور مکھن تک کے مختلف ذائقے شامل ہیں۔
کمپنی نے منگل کو کہا کہ وہ ’پیکجنگ کی وضاحتوں پر نظرثانی کرے گی‘ اور اس ماہ کے آخر یا جون سے شروع ہونے والی 14 مصنوعات کے لیے صرف ’دو رنگ‘ استعمال کرے گی۔
اس نے یہ نہیں بتایا کہ کون سے دو رنگ ہوں گے، لیکن بیان میں سرمئی رنگ کی پیکجنگ کی تصاویر دکھائی گئیں۔
کالبی نے الزام لگایا کہ ’مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں کچھ خام مال کی فراہمی میں عدم استحکام ہے۔‘
مقامی میڈیا نے کہا کہ سنیک بنانے والی کمپنی کو نیفتھا کی قلت کے باعث پرنٹنگ انک کی خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے، جو تیل کی ایک ذیلی پیداوار ہے اور مختلف صنعتوں میں استعمال ہوتی ہے۔
متاثرہ اشیاء میں کئی آلو چپس مصنوعات، ایک ناشتہ سیریل اور کاپا ایبیسن شامل ہیں۔
کمپنی نے کہا کہ ’ہم کاروباری ماحول میں تبدیلیوں، بشمول جغرافیائی سیاسی خطرات، پر تیزی اور لچکدار انداز میں ردعمل دینا جاری رکھیں گے، جبکہ محفوظ، قابل اعتماد اور تسلی بخش مصنوعات فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔‘
ایک اور جاپانی فوڈ کمپنی، ایتوہام یونےکیو ہولڈنگز نے بھی اے ایف پی کو بتایا کہ مستقبل میں کچھ مصنوعات کے لیے سیاہ اور سفید یا مختلف قسم کی انک استعمال کرنا ممکنہ آپشنز میں شامل ہیں، اور اس نے بھی مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے باعث سپلائی کے مسائل کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل عام طور پر آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، اور فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد اس کی عملی بندش نے قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔
